راولپنڈی۔10نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہاہے کہ ماحولیاتی تحفظ کیلئے دھان کی باقیات کو آگ لگانا قابل سزا جرم ہے جس کے تحت اندراج ِ مقدمہ، فوری گرفتاری اور 6 ماہ تک سزا ہو سکتی ہے اس لئے کاشتکار دھان کی کٹائی کے بعدفصل کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں۔ کاشتکاروں کی آگاہی کے لئے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے …
ماحولیاتی تحفظ کیلئے دھان کی باقیات کو آگ لگانا قابل سزا جرم ہے ، وزیراعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی

مزید خبریں
راولپنڈی۔10نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہاہے کہ ماحولیاتی تحفظ کیلئے دھان کی باقیات کو آگ لگانا قابل سزا جرم ہے جس کے تحت اندراج ِ مقدمہ، فوری گرفتاری اور 6 ماہ تک سزا ہو سکتی ہے اس لئے کاشتکار دھان کی کٹائی کے بعدفصل کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں۔ کاشتکاروں کی آگاہی کے لئے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک امین اسلم نے کہاکہ وزیر اعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت سموگ کے کنٹرول کے لئے محکمہ زراعت 80 فیصد سبسڈی پر دھان کی باقیات کی تلفی کے لئے جدید مشینری فراہم کر رہا ہے۔ دھان کو آگ لگانے سے نہ صرف زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ کو نقصان پہنچتا ہے اور زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے۔ دھان کی باقیات سے اٹھنے والا دھواں ٹریفک حادثات اور انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بھی بنتا ہے۔ اسی لئے وزیر اعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت کاشتکاروں کو امسال 300 سے زائد رائس سٹرا چاپر اور ہیپی سیڈرز فراہم کئے جا رہے ہیں جن کی مدد سے کاشتکار دھان کے مڈھوں کو زمین میں ملا کر اس کی زرخیزی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت دو سال میں1 ہزار سے زائد رائس سٹرا چاپر اور ہیپی سیڈر کاشتکاروں میں سبسڈی پر فراہم کئے جا ئیں گے۔







