موجودہ حکومت کا ریاست مدینہ کا تصور علامہ اقبال کے مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے پیغام کے عین مطابق ہے۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا ایمبیسیڈرز کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کا ریاست مدینہ کا تصور علامہ اقبال کے مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے پیغام کے عین مطابق ہے۔ کسی کو اس معاملے پر طنز نہیں کرنا چاہیے۔ دنیا کے بعض ممالک نشاۃ ثانیہ کے معاملے پر پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ تاہم عمران خان جیسے رہنما اس معاملے پر اپنے پائوں پر کھڑے ہیں۔ علامہ اقبال …

اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کا ریاست مدینہ کا تصور علامہ اقبال کے مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے پیغام کے عین مطابق ہے۔ کسی کو اس معاملے پر طنز نہیں کرنا چاہیے۔ دنیا کے بعض ممالک نشاۃ ثانیہ کے معاملے پر پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ تاہم عمران خان جیسے رہنما اس معاملے پر اپنے پائوں پر کھڑے ہیں۔ علامہ اقبال نے ہندوستان میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے استحصال کی جو بات کی تھی وہ آج سچ ثابت ہوئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو علامہ اقبال کے یوم پیدائش کی مناسبت سے ایمبیسیڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کورونا وباءدوبارہ پھیل رہی ہے اور میں مسلسل اس بات کی یاددہانی کرا رہا ہوں کہ ہمیں احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے‘ ماسک پہننے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ علامہ محمد اقبال کی سوچ اور شاعری آفاقیت پر مبنی ہے۔ وہ پاکستان سمیت سب قوموں بالخصوص امت مسلمہ کے شاعر تھے۔ انہوں نے دو قومی نظریہ کے بارے میں واضح موقف اختیار کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے قیام کے وقت ہم نے پارٹی منشور کے حوالے سے سوچ بچار کی۔ ہم نے یہ طے کیا کہ ہماری ریاست کا ماڈل اسلامی فلاحی ریاست ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کا ریاست مدینہ کا تصور علامہ اقبال کے مسلمانوں کے نشاۃ ثانیہ کے پیغام کے عین مطابق ہے۔ کسی کو اس معاملے پر طنز نہیں کرنا چاہیے۔ دنیا کے بعض ممالک نشاط ثانیہ کے معاملے پر پروپیگنڈہ کر رہے ہیں تاہم عمران خان جیسے رہنما اس معاملے پر اپنے پائوں پر کھڑے ہیں۔ علامہ اقبال نے ہندوستان میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے استحصال کی جو بات کی تھی وہ آج سچ ثابت ہوئی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ چند سالوں میں تحریک پاکستان میں شامل مسلمان رہنمائوں کو یہ ادراک ہوگیا تھا کہ ہندوستان میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا استحصال کیا جائے گا۔ علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح نے بار بار برصغیر کے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے الگ وطن ضروری ہے۔ علامہ اقبال کو یورپ میں دوران تعلیم احساس ہوا کہ مسلمان بالخصوص ہندوستان کے مسلمان زوال پذیر ہیں جس سے ان کو صدمہ ہوا۔ اس اثر کا اظہار ان کی شاعری میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے اس وقت اپنے اشعار کے ذریعے مسلمانوں میں نئی روح پھونکی۔ ان کی شاعری نے امت مسلمہ کو جگانے میں اہم کردار ادا کیا۔ صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ علامہ محمد اقبال کے قائداعظم محمد علی جناح کو لکھے گئے خطوط ان کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ 1930ءمیں خطبہ الہ آباد میں انہوں نے مسلمانوں کے لئے ایک ایسی ریاست کا مطالبہ کیا جس میں اکٹھے ہوکر وہ اپنی زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب‘ سندھ‘ بلوچستان اور کے پی کے کو مسلم اقلیتی صوبہ بنایا جائے۔ بنگال کو بھی مسلم اقلیتی صوبے کا درجہ دیا جائے۔ صدر مملکت نے کہا کہ علامہ محمد اقبال کی بہت سی پیشنگوئیاں درست ثابت ہوئی ہیں۔ بھارتی حکومت جو حالات پیدا کر رہی ہے اس سے وہاں انتشار پیدا ہوگا۔ دو قومی نظریہ اس وقت کا بہترین نظریہ تھا۔ ہم نے علامہ اقبال کے مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے نظریے کے تناظر میں پارٹی سٹرکچر اور تعلیمی نصاب کا تعین کیا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ محمد اقبال نے اپنے لیکچرز میں ایمان‘ منطق اورصوفی ازم پر زور دیا۔ ہمارے لئے قرآن پاک کی تعلیمات مشعل راہ ہیں۔ انسان میں اس وقت تبدیلی پیدا ہوتی ہے جب وہ روحانی اعتبار سے مضبوط ہوتا ہے۔ علامہ اقبال نے اپنی تصانیف میں موت اور زندگی کا تصور بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرسید احمد خان سمیت دیگر مسلمان رہنماﺅں نے برصغیر کے مسلمانوں کی سوچ بدلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نشاۃ ثانیہ کی طرف جارہا ہے۔ یہ ہمارے دلوں کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ قیادت اسی عزم و ہمت سے کام کرے گی تو اس سے پاکستان ترقی کرے گا۔ تقریب سے وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود‘ سینیٹر ولید اقبال‘ کرغزستان ‘ اٹلی‘ سپین‘ جرمنی اور بنگلہ دیش کے سفیروں سمیت چیئرمین پاکستان اکادمی ادبیات ڈاکٹر یوسف خشک نے بھی خطاب کیا۔