اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ نواز شریف لندن میں بیٹھ کر آئین و قانون کی بات کر رہے ہیں، اگر انہیں قانون کی بالادستی کا احساس ہے تو وطن واپس آ کر عدالتوں میں پیش ہو کر اپنے بدعنوانی مقدمات کا سامنا کریں، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کی اپنی ترجیحات اور …
نواز شریف کو اگر انہیں قانون کی بالادستی کا احساس ہے تو وطن واپس آ کر اپنے خلاف بدعنوانی مقدمات کا سامنا کریں،وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز

مزید خبریں
اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ نواز شریف لندن میں بیٹھ کر آئین و قانون کی بات کر رہے ہیں، اگر انہیں قانون کی بالادستی کا احساس ہے تو وطن واپس آ کر عدالتوں میں پیش ہو کر اپنے بدعنوانی مقدمات کا سامنا کریں، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کی اپنی ترجیحات اور مفادات ہیں، وہ کسی قیمت پر نواز شریف کے بیانیے کو آگے لیکر نہیں چل سکتیں اور آہستہ آہستہ پھوٹ سامنے آنا شروع ہو گئی ہے، کراچی واقعہ کی تحقیقات کے حوالے سے بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ اسطرح کے فیصلوں سے اداروں کی عزت بڑھتی ہے، انہیں چاہیے کہ اسی طرح سندھ حکومت کے ماتحت اداروں کو بھی مثالی بنائیں، حکومت نے جامع حکمت عملی کے تحت کورونا وبا پر قابو پایا تھا، وبا دوبارہ سے پھیل رہی ہے اور ہم سب کو ملک سے وبا کے مکمل خاتمے کیلئے بحیثیت قوم ذمہ دار کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ منگل کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی واقعہ کی تحقیقاتی رپورٹ خوش آئند ہے، بلاول بھٹو زرداری نے تحقیقات کو سراہا ہے جبکہ نواز شریف نے اسے مسترد کیا ہے، یہاں سے ہی صاف ظاہر ہو گیا ہے کہ دونوں جماعتوں کا بیانیہ مختلف ہے۔ شبلی فراز نے کہا کہ لیگی رہنما کیپٹن (ر) صفدر اعوان نے مزار قائد کی بے حرمتی کی جس پر کوئی بات نہیں ہو رہی، انہیں اپنی حرکت پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف تین دفعہ ملک کے وزیراعظم رہے ہیں، بدقسمتی کی بات ہے کہ وہ لندن میں بیٹھ کر ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ انتخابات میں ان کی منشا کے مطابق نتائج نکلیں اور عدالتوں میں ان کے حق میں فیصلے آئیں، اگر ایسا نہ ہو تو سب غلط ہے، ایسا نہیں ہوتا، انہیں چاہیے کہ وہ خود کو قانون کے سامنے پیش کریں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی گزشتہ 40 سال سے باریاں لیتی آئی ہیں، دونوں جماعتوں نے قومی اداروں کو ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کر کے انہیں مفلوج کیا اور ملک پیچھے رہ گیا، موجودہ حکومت اداروں کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کسی بھی اپوزیشن رہنما کے خلاف قومی اداروں کو استعمال نہیں کر رہی، تمام ادارے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ جن سیاسی رہنمائوں پر بدعنوانی الزامات ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ خود کو قانون کے سامنے پیش ہو کر مثال قائم کریں، اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ملک میں کبھی انصاف عام نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نواز شریف کے بیانیے سے اتفاق نہیں کر رہی، اپوزیشن اتحاد میں پہلے ہی شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا الگ الگ بیانیہ ہے اور یہ کسی صورت میں زیادہ دیر تک ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے، اگر ہم نے اسے سنجیدگی سے نہ لیا تو وبا کے خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ ہے، تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کو چاہیے کہ وہ عوامی اجتماع سے گریز کریں اور کورونا ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔







