اسلام آباد۔4دسمبر (اے پی پی):پاکستان سٹیزن پورٹل نے لوگوں کی شکایات تیزی سے نمٹانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔وزیر اعظم میڈ یا آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق جمعہ کو وزیر اعظم کو پاکستان سٹیزن پورٹل کی دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی جس کے مطابق پا کستان سٹیزن پورٹل پر اب تک موصول ہونے والی شکایات کی مجموعی تعداد 27 لاکھ سے زائد ہے اس …
پاکستان سٹیزن پورٹل نے لوگوں کی شکایات تیزی سے نمٹانے میں اہم کردار ادا کیا ہے،وزیر اعظم میڈ یا آفس اعلامیہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔4دسمبر (اے پی پی):پاکستان سٹیزن پورٹل نے لوگوں کی شکایات تیزی سے نمٹانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔وزیر اعظم میڈ یا آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق جمعہ کو وزیر اعظم کو پاکستان سٹیزن پورٹل کی دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی جس کے مطابق پا کستان سٹیزن پورٹل پر اب تک موصول ہونے والی شکایات کی مجموعی تعداد 27 لاکھ سے زائد ہے اس پورٹل کے ذریعے ملک بھر کے تمام شہری اپنی شکایات اعلیٰ حکام تک پہنچا سکتے ہیں، موصول ہونے والی شکایات اور ان پر ہونے والی کارروائی سے متعلق رپورٹ باقاعدگی سے وزیراعظم عمران خان کو فراہم کی جا رہی ہے جس میں نہ صرف ازالہ شدہ شکایات کے حجم کی نشاندہی کی جاتی ہے بلکہ عوام کی جانب سے فراہم کردہ فیڈ بیک بھی اس میں شامل ہوتا ہے، اس وقت پورٹل پر رجسٹرڈ مجموعی افراد کی تعداد 28 لاکھ 19 ہزار ہے جن میں اوورسیز پاکستانیوں کی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار جبکہ غیر ملکی رجسٹرڈ افراد کی تعداد 11ہزار ہے۔ اس طرح پورٹل پر رجسٹرڈ مرد حضرات کی مجموعی تعداد 26 لاکھ 26 ہزار ہے جو پورٹل پر رجسٹرڈ مجموعی تعداد کا 87 فیصد ہے۔ پورٹل پر رجسٹرڈ خواتین تعداد 2 لاکھ ایک ہزار ہے جو مجموعی تعداد کا 7 فیصد ہیں، پورٹل پر 4 ہزار مختلف افراد کے علاوہ ایک لاکھ 69 ہزار ایسے ممبران ہیں جنہوں نے شناخت ظاہر نہیں کی۔ پاکستان سٹیزن پورٹل پر پنجاب سے رجسٹرڈ افراد کی تعداد 16 لاکھ 96 ہزار، کے پی کے میں 5 لاکھ 16 ہزار، سندھ میں 4 لاکھ 6 ہزار، بلوچستان میں 39 ہزار، اسلام آباد میں 37 ہزار، آزاد جموں و کشمیر میں 29 ہزار اور گلگت بلتستان میں 1425 افراد رجسٹرڈ ہیں۔ پورٹل پر 10 سرفہرست رجسٹرڈ پروفیشنل افراد میں طلبائ کی تعداد 2 لاکھ 3 ہزار 959 ہے، کاروباری شخصیات کی تعداد 1 لاکھ 18 ہزار 789، انجینئرز کی تعداد 82 ہزار 200، سول سرونٹس کی تعداد 60 ہزار 66، اساتذہ کی تعداد 53 ہزار 703، سماجی ورکرز کی تعداد 53 ہزار 479، کارپوریٹ سیکٹر سے 32 ہزار 638 افراد، فورسز سے 23 ہزار 483، میڈیکل کے شعبہ سے 14 ہزار 619 اور وکلائ کی تعداد 12 ہزار 768 ہے۔ عمر کے لحاظ سے 20 سال تک کی عمر کے 1 لاکھ 80 ہزار 587 افراد پورٹل پر رجسٹرڈ ہیں جو مجموعی تعداد کا 6 فیصد ہیں۔ اسی طرح 20 سے 29 سال کی عمر کے افراد رجسٹرڈ افراد کی تعداد 13 لاکھ 64 ہزار 196 ہے جو مجموعی تعداد کا 49 فیصد ہے۔ 30 سے 39 سال کی عمر کے افراد کی تعداد 8 لاکھ 12 ہزار 676 ہے جو 29 فیصد ہے۔ اسی طرح 45 سال سے 49 سال تک کی عمر کے رجسٹرڈ افراد کی تعداد 2 لاکھ 86 ہزار 123 ہے جو مجموعی تعداد کا 10 فیصد ہے۔ 50 سال سے 65 سال تک کی عمر کے 1 لاکھ 34 ہزار 351 افراد پورٹل پر رجسٹرڈ ہیں جو مجموعی تعداد کا پانچ فیصد جبکہ 65 سال سے زائد عمر کے 22 ہزار 753 افراد پورٹل پر رجسٹرڈ ہیں جو مجموعی تعداد کا ایک فیصد ہیں۔ تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے بیچلر ڈگری کے حامل 1 لاکھ 2 ہزار 522 افراد پورٹل پر رجسٹرڈ ہیں۔ ماسٹر ڈگری کے حامل 1 لاکھ 35 ہزار 792 افراد، ایم ایس، پی ایچ ڈی ڈگریوں کے حامل 37 ہزار 488 افراد پورٹل پر رجسٹرڈ ہیں۔ اسی طرح پوسٹ ڈاکٹرز کی تعداد 1852 ہے۔ پورٹل پر رجسٹرڈ اقلیتوں کی تعداد ایک لاکھ 1 ہزار 32 ہے۔ سٹیزن پورٹل پر بیرون ممالک مقیم تارکین وطن بھی رجسٹرڈ ہیں جن کی مجموعی تعداد تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار ہے جن میں سے متحدہ عرب امارات سے رجسٹرڈ پاکستانیوں کی تعداد 41 ہزار 439، سعودی عرب سے 37 ہزار 311، برطانیہ سے 13 ہزار 614، امریکہ سے 5 ہزار 876، قطر سے 4 ہزار 657، آسٹریلیا سے 4 ہزار 591، کینیڈا سے 4 ہزار 232، اومان سے 4 ہزار 205، ملائیشیا سے 3 ہزار 516، اٹلی سے 3 ہزار 75، کویت سے 2 ہزار 758، بحرین سے 2 ہزار 655، چین سے 2 ہزار 538 ہیں۔ سٹیزن پورٹل پر مجموعی طور پر 27 لاکھ 64 ہزار 410 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 25 لاکھ 95 ہزار 828 شکایات کو نمٹایا گیا۔ اس طرح شکایات کو نمٹانے کی شرح 94 فیصد ہے۔ وفاقی دارالحکومت سے موصول ہونے والی شکایات کی تعداد 13 لاکھ 41 ہزار 601 ہے جن میں سے 12 لاکھ 71 ہزار 614 شکایات کو حل کیا گیا، پنجاب سے 9 لاکھ 45 ہزار 784 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 8 لاکھ 92 ہزار 638 شکایات کو نمٹایا گیا۔ شکایات کو نمٹانے کی شرح 94 فیصد رہی۔ خیبر پختونخوا سے 2 لاکھ 62 ہزار 917 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 2 لاکھ 49 ہزار 399 شکایات کو حل کیا گیا۔ اس طرح شکایات کو حل کرنے کی شرح 95 فیصد رہی۔ سندھ سے 1 لاکھ 67 ہزار 691 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 1 لاکھ 43 ہزار 473 شکایات کو حل کیا گیا۔ شکایات کو حل کرنے کی شرح 86 فیصد رہی۔ وفاقی دارالحکومت سے موصول ہونے والی شکایات کی تعداد 22 ہزار 759 ہے جن میں سے 17 ہزار 764 شکایات کو نمٹایا گیا، شکایات حل کرنے کی شرح 78 فیصد رہی۔ بلوچستان سے 19 ہزار 618 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 17 ہزار 551 شکایات کو حل کیا گیا۔ شکایات کو حل کرنے کی شرح 89 فیصد رہی۔ گلگت بلتستان سے 3 ہزار 421 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 2 ہزار 863 شکایات کو حل کیا گیا جبکہ آزاد جموں و کشمیر سے موصول ہونے والی شکایات کی تعداد 619 رہی جن میں سے 526 شکایات کو حل کیا گیا۔ مجموعی طورپر موصول ہونے والی 27 لاکھ 64 ہزار شکایات میں سے 13 لاکھ 41 ہزار 601 شکایات کا تعلق وفاقی حکومت کے محکموں سے تھا۔ 4 لاکھ 97 ہزار 758 شکایات توانائی اور پاور سے متعلق، 1 لاکھ 26 ہزار 667 شکایات کا تعلق تعلیم اور 83 ہزار 426 شکایات کا تعلق انسانی حقوق سے متعلق تھا۔ پنجاب سے موصول ہونے والی 9 لاکھ 45 ہزار 784 شکایات میں سے 2 لاکھ 94 ہزار 735 شکایات کا تعلق میونسپل سروسز سے، 1 لاکھ 11 ہزار 178 شکایات کا تعلق امن و امان سے جبکہ 1 لاکھ 402 شکایات کا تعلق تعلیم سے تھا۔ خیبر پختونخوا سے موصول ہونے والی 2 لاکھ 62 ہزار 917 شکایات میں سے 61 ہزار 559 شکایات کا تعلق میونسپل سروسز سے، 50 ہزار 386 شکایات کا تعلق ایجوکیشن سے جبکہ 28 ہزار 584 شکایات کا تعلق صحت کے شعبہ سے تھا۔ سندھ سے موصول ہونے والی 1 لاکھ 67 ہزار 691 شکایات میں سے 73 ہزار 575 شکایات کا تعلق میونسپل سروسز سے، 1 لاکھ 71 ہزار 196 شکایات کا تعلق تعلیم سے، 15 ہزار 358 شکایات کا تعلق امن و امان سے تھا۔ اسی طرح وفاقی دارالحکومت سے موصول ہونے والی 22 ہزار 759 شکایات میں سے 7 ہزار 587 شکایات کا تعلق میونسپل سروسز، 4 ہزار 268 شکایات کا تعلق انسانی حقوق سے جبکہ 2 ہزار 567 شکایات کا تعلق لینڈ ریونیو سے تھا۔ بلوچستان سے موصول ہونے والی 19 ہزار 618 شکایات میں سے 4 ہزار 573 شکایات کا تعلق میونسپل سروسز، 3 ہزار 233 شکایات کا تعلق تعلیم اور 2 ہزار 279 شکایات انسانی حقوق سے متعلق تھیں۔ اسی طرح گلگت بلتستان سے 3421 جبکہ آزاد جموں و کشمیر سے 619 شکایات مختلف قسم کے شعبوں سے متعلق تھیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے موصول ہونے والی مجموعی شکایات کی تعداد 1 لاکھ 36 ہزار 392 ہے جن میں سے 1 لاکھ 28 ہزار 372 شکایات کو نمٹایا گیا۔








