کراچی۔13دسمبر (اے پی پی):پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما حلیم عادل شیخ کہا ہے کہ اتوار کو لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں پاپا ڈیڈی مولانا بچائو موونٹ کے چور جمع ہوئے ہیں، مولانا صاحب کی کرپشن کیسز سامنے آگئے ہیں اب پتا چلا کہ مولانا خود کو بھی بچانے کےلئے نکلے ہوئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو انصاف ہائوس میں پریس کانفرنس …
لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں پاپا ڈیڈی مولانا بچائو موونٹ کے چور جمع ہوئے ہیں، پی ٹی آئی مرکزی رہنما حلیم عادل شیخ کی اہم پریس کانفرنس

مزید خبریں
کراچی۔13دسمبر (اے پی پی):پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما حلیم عادل شیخ کہا ہے کہ اتوار کو لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں پاپا ڈیڈی مولانا بچائو موونٹ کے چور جمع ہوئے ہیں، مولانا صاحب کی کرپشن کیسز سامنے آگئے ہیں اب پتا چلا کہ مولانا خود کو بھی بچانے کےلئے نکلے ہوئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو انصاف ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پران کے ہمراہ پی ٹی آئی رکن سندھ اسمبلی دعا بھٹو، پی ٹی آئی رہنما جانشیر جونیجو، سمیر میر شیخ و دیگر بھی موجود تھے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں نے ملک و قوم کو لوٹا ہے، سندھ کوپیپلزپارٹی نے کرپشن کر کے تباہ کیا ہے، ن لیگ نے پنجاب میں کرپشن کر کے پنجاب کو تباہ کیا، مولانا کی پارٹی نے بھی کے پی کے میں اکرم درانی کے دور میں میں کرپشن کی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا آپ سیاستدان ہیں یا ڈیل کرنے والے ہیں، آپ نے کہا تھا کہ آپ کو دھرنا ختم کرنے کا کہا گیا ،مولانا صاحب آپ میں اگر ہمت ہے تو بتائیں کس نے آپ کو دھرنا ختم کرنے کے لئے کہاتھا۔ 11 جماعتوں نے ملکر پورے پاکستان سے عوام کو بلوایا ہے، پھر بھی عوام ان کے ساتھ نہیں ہوئی،شہباز شریف نیب جاتے ہوئےکوروناکا رونا روتے ہیں، ہر پاکستانی شہری کی جان کی ذمہ داری آئین پاکستان دیتا ہے، ملتان جلسے کے بعد 66 فیصد ہسپتال کوروناکے مریضوں سے بھر چکے ہیں، آج لاہور میں بھی یہ لوگ کوروناکے پھیلائوکا باعث بنے ہیں، وزیر اعلیٰ سندھ کرونا کا رونا دھونا بلیٹن لگاتے تھے، آج 21 فیصد کوروناکراچی میں بڑھ رہا ہے، آج وزیر اعلیٰ سندھ کہاں ہیں کیوں نہیں نظر آرہے۔ انہوں نے کہا کہ بتایا گیا ہے کہ استفعے جمع ہوگئے ہیں لیکن دیئے نہیں جارہے ،ہم نے اپنے امیدواروں کو کہہ دیا ہے تیاری کر لو،ایک طرف پی پی والے کہہ رہے ہیں استعفے دیئے ہیں، دوسری طرف تاج حیدرالیکشن کمیشن کو خط لکھ کر کہتے ہیں کہ سندھ میں ضمنی انتخابات کرائے جائے، کراچی میں پی ایس 88 میں 21 فیصد کوروناہے، عمرکوٹ میں جادم منگریو کوروناسے شہید ہوئے، سانگھڑ میں جام مدد علی بھی کورونا کی وجہ سے شہید ہوگئے، خط میں ان علاقوں میں الیکشن کرانے کے لئے لکھا جارہا ہے کہ کورونانہیں ہے،عذرا پیچوہوکہہ رہی ہیں حالات خراب ہیں اب کون جھوٹا ہے اور کون سچا، پوری ڈرامے باز پارٹی عوام کو بے وقوف بنا رہی ہیں،الیکشن دوبارہ کرائیں عوام ان کو باہر اٹھا کر پھینک دے گی اگر پی پی میں غیرت ہے تو استعفے دیکر دیکھیں۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ کراچی میں دودھ کی رکھوالی پر بلی کو بٹھایا گیا ہے،11سو ارب کے پروجیکٹ کراچی کے لئے رکھے گئے ہیں، سارے فیصلے اپیکس کمیٹی سے طے کے بعد کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی مشاورت سے لگایا جائے گا لیکن ہمارا اپیکس کمیٹی ممبران سے رابطہ ہوا ہے کسی سے مشاورت نہیں کی گئی، لئیق احمد کو کراچی کا ایڈمنسٹریٹر لگایا گیا ہے، لئیق سے میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہےانہوں نے کہا کہ ایکسائز ڈپارنمنٹ میں مکیش چاولہ کی نگرانی میں کرپشن ہوتی ہے،یہی لئیق احمد وہاں سیکریٹری رہے، ایکسائز میں ہر قسم کی کرپشن کی گئی جعلی کاغذات سے لیکر شراب کھانے کھولے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس معاملے میں لئیق احمد پر تحفظات ہیں ۔اسٹیک ہولڈرکو ان معاملات پر کیوں اعتماد میں نہی لیا گیا، اس معاملے کو خراب کرنے کی طرف بھیجا جارہا ہے، پی پی نہیں چاہتی کہ ہم کراچی کو ٹھیک کر سکیں، کراچی اس وقت گندگی کا ڈھیر بن گیا ہے، کراچی میں ابھی تک پرانی گاڑیوں میں ہماری عوام سفر کر ہی ہے، ایک گاڑی بھی پی پی نے کراچی میں نہیں چلائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم قیادت میں سارے چور مفرور اور ضمانت پر ہیں۔نواز شریف، حسن نواز، اسحاق ڈار مفرور ہیں جبکہ شہباز شریف، حمزہ شہباز ،زرداری جیل میں ہیں۔ احسن اقبال، اکرم درانی، مولانا فضل الرحمان زیر تفتیش ہیں تو سارے چورہی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نااہلوں، چوروں، ڈاکوئوں کا کرپٹ ٹولا ہے۔ آج میدان بھی حاضر ہے جلسہ بھی ہورہا ہے عوام نہیں ملی، پچھلے دنوں ایک جنازہ ہوا تھا اس کے ذرا برابر بھی یہ لوگ جمع نہ ہوسکے،اپنی کرپشن بچانے کے لئے چوردوبارہ لاہور میں جمع ہوئے،لاہور سمیت پورے ملک کی عوام نے ان کرپٹ چوروں کو رد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو قانون کی خلاف ورزے کرے گا قانون حرکت میں آئے گا۔ان کی خواہش تھی کہ کوئی ماڈل ٹاﺅن جیسا واقعہ ہوجائے لیکن ہم ایسا نہیں کر سکتے،سندھ میں یہ لوگ برداشت نہیں کر سکتےگا۔ انہوں نے کہا کہ 102 والی چینی 81 روپے تک آگئی ہے،زر مبادلہ کےذخائر بڑھ چکے ہیں، ٹیکسٹائل کی پیداواربڑھ رہی ہے، ایکسپورٹ بڑھ رہی ہیں،اسٹاک ایکسینچ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں کرپشن ہورہی ہے غریبوں کے پیسوں میں کٹوتی کی جارہی ہے، احساس سینٹر پر سندھ حکومت رشوت خوری کروا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال میں کرنٹ اکائونٹ سرپلز ہوگیا ہے،بیرون ممالک سے ترسیلات بڑھ رہی ہیں، اسٹیٹ بینک کے ذخائر بڑھ رہے ہیں، ہر سطح پر پاکستان کی ترقی ہورہی ہے، آج پی ڈی ایم کا سرکس ختم ہورہا ہے، ہم سندھ حکومت کے خلاف کرپشن مٹائو لانگ مارچ شروع کرنے کو تیا رہیں لیکن کوروناکی وجہ سے کچھ نہیں کیا، لاڑکانہ میں بھی ہزاروں لوگ پی پی کےخلاف نکلے تھے۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ پی پی اگر سندھ میں استعفے دیتی ہے تو کافی اراکین پی پی کے ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں، ہمارے پاس پوری اکثریت ہے، پی پی والے جلدی کریں استعفے دے دیں،سندھ حکومت میں 20 غیر منتخب لوگ کوآرڈینیٹر اسپیشل اسٹٹنٹ بنے ہوئے ہیں لیکن جو منتخب ایم پی اے ہیں ان کو محکمے نہیں دیئے گئے ، نہ کوئی وزارت دی گئی، جس کے خلاف ہم عدالت جارہے ہیں ،متاثرین اراکین سب ہم سے رابطے میں ہیں۔








