چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریارآفریدی اور گورنرسندھ عمران اسماعیل کا کے پی ایل کے حوالے سے تقریب سے خطاب

کراچی۔25دسمبر (اے پی پی):بھارت کے زیر تسلط کشمیر کی گلیوں میں کوئی کرکٹ تک نہیں کھیل سکتا ، آزاد کشمیر میں کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل ) ہونے جارہی ہے ، دنیا دیکھے گی کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں کتنا فرق ہے ، وہ دن دور نہیں جب بھارت کے زیر تسلط کشمیر بھی آزاد کشمیر کا حصہ بنے گااور کے پی ایل کی ٹیمیوں میں مزید …

کراچی۔25دسمبر (اے پی پی):بھارت کے زیر تسلط کشمیر کی گلیوں میں کوئی کرکٹ تک نہیں کھیل سکتا ، آزاد کشمیر میں کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل ) ہونے جارہی ہے ، دنیا دیکھے گی کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں کتنا فرق ہے ، وہ دن دور نہیں جب بھارت کے زیر تسلط کشمیر بھی آزاد کشمیر کا حصہ بنے گااور کے پی ایل کی ٹیمیوں میں مزید اضافہ ہوگا، جب عالمی کھلاڑی کے پی ایل میں کھیلیں گے تو وہ سفیر بن کے کشمیر کی حقیقی تصویردنیا کو دکھائیں گے ، کشمیرکمیٹی ہر وہ کام کرے گی جس سے مسئلہ کشمیر کو فائدہ پہنچے گا۔ ان خیالات کا اظہار کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار آفریدی اور گورنر سندھ عمران اسماعیل نے گزشتہ روز کشمیر پریمیئر لیگ کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب سے کے پی ایل کے صدر عارف ملک ،سی ای او چوہدری شہزاد اختر، مظفر آباد ٹائیگر اور میرپورائلز کے مالکان نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر فنکاروں نے اپنے فن کا بھی مظاہر ہ کیا جس پر تقریب کے شرکانے ان کو خوب داد بھی دی ۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی نے کہا کہ جب عالمی کھلاڑی کے پی ایل میں کھیلیں گے تو وہ سفیر بن کے کشمیر کی حقیقی تصویردنیا کو دکھائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھے گا کہ کشمیر کمیٹی کا کے پی ایل سے کیا تعلق ہے لیکن کشمیرکمیٹی ہر وہ کام کرے گی جس سے مسئلہ کشمیر کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام شعبوں میں دنیاکا مقابلہ کرسکتے ہیں، ہم اس کی صلاحیت رکھتے اور ماضی میں ہم یہ ثابت بھی کرچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیرجنت نظیر وادی ہے ، ہم نے دنیاکو کشمیر کی خوبصورتی کے ساتھ کشمیر کے ٹیلنٹ اور کلچر کو بھی دکھانا ہے ۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ کے پی ایل سے کشمیر کے نواجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کا اظہا رکرنے کے مواقع ملیں گے۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی نے کہا کہ وزیراعظم آزاد کشمیرکے پی ایل کی قیادت کریں گے اور ہم اس حوالے سے بھر پور تعاون کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہرشعبہ میں ہیروز پیدا کئے ہیں اور اب بھی ہم نے اپنے ہیروز پیدا کرنے ہیں ۔گورنرسندھ عمران اسماعیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے زیر تسلط کشمیر کی گلیوں تک میں کوئی کرکٹ نہیں کھیل سکتااور آزاد کشمیر میں کشمیر پریمیئر لیگ ہونے جارہی ہے ، دنیا دیکھے گی کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں کتنا فرق ہے ، وہ دن دور نہیں کہ بھارت کے زیر تسلط کشمیر بھی آزاد کشمیر کا حصہ بنے گااور کے پی ایل کے ٹیمیوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ گورنر سندھ نے کہا کہ میں شہریار آفریدی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ انہو ں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سیاحت، کھیل اور ثقافت کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور کے پی ایل بھی اسی سوچ کی عکاسی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ جب کے پی ایل شروع ہوگا تو پورا پاکستان آپ کے پیچھے کھڑا ہوگا، اور جس طرح پی ایس ایل میں جوش و جذبہ تھا وہی جو ش و جذبہ کے پی ایل میں بھی نظر آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے اس تقریب کو محدود کیا گیا ہے ، یہ کرکٹ کی دنیا میں اضافہ ہوگا اور کشمیری نوجوانوں کو مواقع ملیں گے، کے پی ایل دیکھنے لوگ کشمیر جائیں گے تو اس کی سیاحت میں بھی اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ کے پی ایل دیکھنے ضرور کشمیر جائیں او ر جب کے پی ایل شروع ہوگا تب تک امید ہے کہ کورونا پر بھی قابو پالیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے ساتھ میں دیگر تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے بھی کہتا ہوں کہ وہ بھی کے پی ایل دیکھنے ضرور جائیں ۔ صدر کے پی ایل عارف ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کے پی ایل کا لوگوہے کھیلوآزادی سے کشمیرپریمیئر لیگ میں 6 ٹیمیں شامل ہوں گی جن میں جس میں مظفر آباد ٹائیگرز، میر پور رائلز، کوٹلی پینتھرز، راولاکوٹ ہاکس، باغ اسٹیلیئنز اوورسیز وارئیرز شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کے پی ایل کا آغاز میرپورسے ہوگا جہاں 7 میچیز کھیلے جائیں گے جبکہ 11 میچز مظفر آباد میں کھیلے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پچھلے دو سالوں سے کے پی ایل پر کام کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کے پی ایل سے سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ سی ای او کے پی ایل چوہدری شہزاد اختر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار آفریدی ، گورنرسندھ عمران اسماعیل اور تقریب کے دیگر شرکا کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ تقریب میں اراکین اسمبلی اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے ۔

مزید خبریں