وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کاصوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کویقینی بنانے کی ہدایت

پشاور۔26دسمبر (اے پی پی):وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے تمام صوبائی محکموں کو جاری میگا ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ ان منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی تاخیربرداشت نہیں کی جائے گی، تمام میگا سکیمیں مقررہ وقت کے مطابق ہونی چاہیے جائیں ، تاکہ ان منصوبوں کے ثمرات بلا تاخیر عوام تک پہنچ سکے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے …

پشاور۔26دسمبر (اے پی پی):وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے تمام صوبائی محکموں کو جاری میگا ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ ان منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی تاخیربرداشت نہیں کی جائے گی، تمام میگا سکیمیں مقررہ وقت کے مطابق ہونی چاہیے جائیں ، تاکہ ان منصوبوں کے ثمرات بلا تاخیر عوام تک پہنچ سکے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے گزشتہ روز صوبے میں میگا ترقیاتی منصوبوں پر اب تک کی پیشرفت کے حوالے سے منعقدہ اعلی سطح کے ایک اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے کیا ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری شکیل قادر کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اور دیگرحکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو مختلف شعبوں میں میگا ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ آئندہ سال یکم فروری تک صوبے کی 100 فیصد آبادی تک صحت سہولت پروگرام کی توسیع کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ اس موقع پر وزیر اعلی نے محکمہ صحت کے حکام کو صحت انصاف کارڈ اسکیم میں لیور ٹرانسپلانٹ کو جلد سے جلد شامل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ لیور ٹرانسپلانٹ ایک مہنگا علاج ہے اور اس پر آنے والی مالی اخراجات اکثر لوگوں کی مالی استطاعت سے باہر ہیں، لہذا عوام کو لیور ٹرانسپلانٹ کی مفت سہولیات فراہم ہونی چاہیے اور صوبائی حکومت اس مقصد کیلئے درکار مالی وسائل فراہم کرے گی۔ وزیر اعلی نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ صوبے کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی ادویات کی دستیابی ہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے ۔اجلاس کوبتایا گیا کہ صوبہ بھر میں تمام بنیادی مراکز صحت کو مضبوط بنانے جبکہ ابتدائی طور پر 200 بنیادی مراکزصحت کو 24/7 چلانے کیلئے پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے جو منظوری کیلئے محکمہ ترقیات و منصوبہ بندی کو جلد بھیجا جائے گا جبکہ ضم اضلاع میں معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے7 ہسپتالوں کی آئوٹ سورسنگ پر بھی کام جاری ہے۔ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے شعبے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سرکاری اسکولوں میں ڈبل شفٹس شروع کرنے کیلئے117 سکولوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں آئندہ تعلیمی سال سے ڈبل شفٹ شروع کر دی جائے گی۔ صوبہ بھر کے تمام سرکاری سکولوں میں ناپید سہولیات کی فراہمی کا عمل بھی جاری ہے۔ اجلاس کو شعبہ مواصلات کے منصوبوں بارے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سوات موٹروے فیز ٹو پر اگلے سال اگست میں عملی کام کا آغاز کیا جائے گا جبکہ خیبر پاس اکنامک کوریڈور کا پی سی ون ایکنک سے منظور ہو چکا ہے اور منصوبے کیلئے کنسلٹنٹ کی ہائرنگ پر کام جاری ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پشاور ڈی آئی خان موٹروے منصوبے کے پی سی ون کی بھی منظوری صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے دے دی ہے جسے مزید منظوری کیلئے مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کو بھیجا جائے گا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ضلع باجوڑ میں بارنگ ٹنل کی تعمیر کیلئے فزیبیلٹی سٹڈی ہو چکی ہے۔ آبپاشی کے منصوبوں بارے بتایا گیا کہ چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال منصوبے کی فیزیبلٹی کا پی سی ٹو منظور ہوگیا ہے۔ وزیر اعلی نے اس منصوبے کو غذائی تحفظ کیلئے اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے اسے ترجیحی بنیادوں پر شروع کرنے کی ہدایت کی۔ توانائی کے منصوبوں پر پیشرفت سے آگاہ کیا گیا کہ 300 میگاواٹ بالاکوٹ ہائیڈل پاور پراجیکٹ کا پی سی ون ایکنک سے منظور کر لیا گیا ہے جبکہ منصوبے کیلئے مینجمنٹ کنسلٹنٹ بھی ہائیر کر لیا گیا ہے۔88میگا واٹ گبرال کالام اور 157 میگا واٹ میدان ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کے لیے کنسلٹنٹ کے انتخاب کا مرحلہ جاری ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ رشکئی اسپیشل اکنامک زون کا منصوبہ افتتاح کیلئے تیار ہے جبکہ مہمند ماربل انڈسٹریل زون میں 106 درخواست گزاروں کو پلاٹ الاٹ ہو چکے ہیں اور 20 یونٹس زیر تعمیر ہیں۔اجلاس کو بتایا گیاکہ صوبے میں سیاحت کے فروغ کیلئے ہزارہ اور مالاکنڈ ڈویژن میں سیاحتی مقامات تک رابطہ سڑکوں کی تعمیر اور ترقی پر بھی کام جاری ہے جبکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں 93 کیمپنگ پوڈز قائم کر لیے گئے ہیں اور 50 مزید پوڈز لگانے کا منصوبہ بھی منظور ہوچکا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے منصوبوں کے بارے میں بتایا گیا کہ ضلع ہری پور میں ڈیجیٹل سٹی کا قیام، ون ونڈو پورٹل جیسے اہم منصوبوں پر کام جاری ہے۔