پشاور۔26دسمبر (اے پی پی):معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے پی ڈی ایم کے غیر جمہوری رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ڈی ایم چیئرمین ملک میں جمہوریت کی تو بات کرتے ہیں لیکن اپنی جماعت میں جمہوریت کے گلے پر آئے روز چھری پھیر رہے ہیں،مولانا کو پہلے اپنی جماعت میں جمہوریت کی بحالی کیلئے لانگ مارچ کرنا چاہیے، مولانا کی پارٹی میں …
اپوزیشن کے استعفوں سے حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا،کامران بنگش

مزید خبریں
پشاور۔26دسمبر (اے پی پی):معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے پی ڈی ایم کے غیر جمہوری رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ڈی ایم چیئرمین ملک میں جمہوریت کی تو بات کرتے ہیں لیکن اپنی جماعت میں جمہوریت کے گلے پر آئے روز چھری پھیر رہے ہیں،مولانا کو پہلے اپنی جماعت میں جمہوریت کی بحالی کیلئے لانگ مارچ کرنا چاہیے، مولانا کی پارٹی میں جب کئی رہنماؤں نے مولانا کو آئینہ دکھایا تو برا مان گئے، جو شخص اپنی پارٹی میں ڈکٹیٹر ہو وہ کس منہ سے عوام کو جمہوریت کا درس دے رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کے روز اپنے ایک بیان میں کیا۔ کامران بنگش نے کہا کہ پی ڈی ایم نے کورونا وائرس کے خلاف حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے حفاظتی تدابیر و احکامات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے عوام کو کئی مشکلات میں آ گھیرا ہے، یہ خان وڈیرے خود تو چور دروازے سے لندن و دبئی علاج کے لیے چلے جاتے ہیں کیونکہ ان کو نہ پہلے غریب عوام کا خیال تھا اور نہ اب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے استعفوں سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ ضمنی انتخابات کرا کر جمہوریت کو مزید مضبوط کریں گے۔معاون خصوصی نے کہا کہ روز بروز پی ڈی ایم کے اندر نئے نئے پینڈورا باکس کھل رہے ہیں کیونکہ غیر فطری اتحاد کھبی بھی آگے نہیں چل سکتا، اب عوام بھی ان کے این آر او والی چال کو جان چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کورونا نہ ہوتا تو پاکستان کی تاریخ کے بڑے جلسے کرتے لیکن ہمیں عوام کی صحت عزیز ہے، اپوزیشن جلسے کرے اور ہم عوامی خدمت کریں گے۔








