پاکستان چین میں آئی سی ٹیز کی ترقی ،اس کے ذریعے زراعت میں تبدیلی کے ماڈل سے استفادہ کرسکتا ہے، چینی اخبار

بیجنگ۔24جون (اے پی پی):پاکستان سی پیک سے ابتدائی فوائد حاصل کرنے کے لیے علمی اشتراک اور انسانی وسائل کی ترقی کے پروگراموں کے ذریعے چین میں انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس کے ذریعے زراعت میں تبدیلی کے ماڈ ل سے استفادہ کرسکتا ہے۔حالیہ برسوں میں چین میں آئی سی ٹیز کی ترقی نے ترقی پذیر ممالک کے لئے غربت کے خاتمے اور جامع ترقی کی مثال قائم کر …

بیجنگ۔24جون (اے پی پی):پاکستان سی پیک سے ابتدائی فوائد حاصل کرنے کے لیے علمی اشتراک اور انسانی وسائل کی ترقی کے پروگراموں کے ذریعے چین میں انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس کے ذریعے زراعت میں تبدیلی کے ماڈ ل سے استفادہ کرسکتا ہے۔حالیہ برسوں میں چین میں آئی سی ٹیز کی ترقی نے ترقی پذیر ممالک کے لئے غربت کے خاتمے اور جامع ترقی کی مثال قائم کر دی۔

جمعرات کو چین ڈیلی میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق حکومت نے ای کمرشل زراعت میں آئی سی ٹیز کے استعمال کو آسان بنانے اور غریب کاشتکاروں کے بنیادی ڈھانچے اور مالی صلاحیت میں بہتری لائی ہے۔2007 کے بعد سے ای کمرشل ایگریکلچر میں انٹرنیٹ کا استعمال 16 فیصد سے بڑھ کر 2020 میں 70 فیصد ہو گیا ہے۔ آن لائن فروخت 11.60 ٹریلین یوان سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ” تاوباو ویلجز“ کے قیام نے ای کمرشل ایگریکلچر کے لیے راہ ہموار کی ہے۔

اس عرصے کے دوران تاوباو ویلجز کی تعداد 3 سے بڑھ کر 5 ہزار445 ہوگئی ہےجس کے بعد تاوباو ایک آن لائن فروخت کا قابل ذکر پلیٹ فارم بن گیا۔تاوباو ، جندونگ ، ٹمال اور پنڈوڈو جیسے آن لائن پلیٹ فارمز کا استعمال تیز اور کم لاگت کورئیر سروسز کے ساتھ منسلک ڈیجیٹل لین دین کو آسان بناتا ہے۔

کووڈ ۔19 کے دوران 13 ملین سے زائد کسانوں نے اپنی زرعی اجناس اس پلیٹ فارم کے ذریعے فروخت کیں۔ ای کمرشل ایگریکلچر کے تحت گائوں کی ترقی کے اس ماڈل میں دیہی ترقی کے خواہاں دیگر ممالک نے بھی دلچسپی ظاہر کی ہے خاص طور سے پاکستان، بھارت بنگلہ دیش اور ایران کو ا س ماڈل سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔