اقوام متحدہ۔7جولائی (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کی نئی حکمت عملی جس کے اہداف میں اسلاموفوبیا ، نسل پرستی اور زینوفوبیا کو اہداف کے طور پر شامل کیا گیا ہے کی حمایت کی ہے اور زور دیا ہے کہ موثر اقدامات کے ذریعہ بڑھتے ہوئے مذہبی اور نسلی امتیاز ، اسلاموفوبیا اور زینوفوبیا یعنی غیرملکیوں سے نفرت کی بنیاد پر دہشت گردی کے ابھرتے ہوئے …
پاکستان کی اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کی عالمی حکمت عملی میں اسلاموفوبیا کو ہدف کے طور پر شامل کرنے کی حمایت

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔7جولائی (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کی نئی حکمت عملی جس کے اہداف میں اسلاموفوبیا ، نسل پرستی اور زینوفوبیا کو اہداف کے طور پر شامل کیا گیا ہے کی حمایت کی ہے اور زور دیا ہے کہ موثر اقدامات کے ذریعہ بڑھتے ہوئے مذہبی اور نسلی امتیاز ، اسلاموفوبیا اور زینوفوبیا یعنی غیرملکیوں سے نفرت کی بنیاد پر دہشت گردی کے ابھرتے ہوئے نئے خطرات سے نمٹا جائے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ عامر خان نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی انسداد دہشت گردی کی سٹریٹجی کے ساتویں بار جائزے کے دوران واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور گلوبل کائونٹر ٹیررازم سٹریٹجی (جی سی ٹی ایس)کے جائزے کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ ابھرتے ہوئے نئے خطرات اور بین الاقوامی دہشت گردی کے ابھرتے ہوئے رجحانات کی روشنی میں حکمت عملی کو اس سے متعلقہ اور جدیدبنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ آج عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی دہشت گردی انتہائی سنگین رجحانات میں سے ایک ہے جس کی ایک قسم نسل پرستی، زینوفوبیا، عدم برداشت، اسلاموفوبیا یا عدم برداشت کی دیگر اقسام متشدد قوم پرست ، بالادستی ، انتہائی دائیں بازو اور دیگر گروہوں اور نظریات کی بنیاد پر ہونے والے دہشت گرد حملے ہیں اور بدقسمتی سے کورونا وائرس کی وبا نے ابھرنے والے نئے خطرات کو مزید بڑھاوا دیا ہے اور دہشت گرد گروہوں نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت انگیزی اور سازشی نظریات کو پھیلانے کے لئے اس وبا کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے عالمی سطح پر دہشت گردی کی روک تھام کے لیے نظرثانی شدہ حکمت عملی کی منظوری کو بالکل صحیح تسلیم کرتا ہے کیونکہ پاکستان کو پوری دنیا کے مختلف حصوں میں اسلاموفوبیا اور دیگر تعصبات کی بنیاد پر ہونے والے مذہبی اور نسلی امتیاز، عدم رواداری اور تشدد کے واقعات میں مجموعی طور پر اضافے پر گہری تشویش بھی ہے اور انہیں امید ہے کہ اس سلسلے میں سیکرٹری جنرل کی آنے والی رپورٹ ابھرنے والے نئے خطرات کا ایک جامع جائزہ لے گی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی اصل وجوہات کی نشاندہی کرنے کے لئے عالمی برادری خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل طویل عرصے سے حل طلب تنازعات کے حل ، غیر ملکی قبضے کے خاتمے اور حق خود ارادیت کے حق کو یقینی بناننے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انسداد دہشت گردی کے عالمی منصوبے کا معمار ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کے نظام میں ضروری تبدیلیوں کا مطالبہ کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا اور وہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ نسل پرستی ، زینوفوبیا ، عدم رواداری ، اسلامو فوبیا یا عدم رواداری کی دیگر اقسام کی بنیاد پر ابھرتے ہوئے نئے خطرات کو روکنے اوربعض مذہب کے پیروکاروں کی بدنامی کے خاتمےکے لیے اقدامات کے دائرہ کار کو وسیع کرے۔
پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ عامر خان نے کہا کہ پاکستان نے اپنا اصولی مؤقف برقرار رکھا ہے کہ اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی دفتر (یو این او سی ٹی) کی تمام سرگرمیوں کو اقوام متحدہ کےباقاعدہ بجٹ کے ذریعے مالی اعانت فراہم کی جانی چاہئے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو یو این او سی ٹی کو اس کے مینڈیٹ پر عملدرآمد کے لیے مکمل خودمختاری دینی چاہیئے۔








