کابل۔4اکتوبر (اے پی پی):طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مسجد پر داعش کے مشتبہ حملے کے بعد مجاہدین کے سپیشل یونٹ نے داعش کے خلاف آپریشن کیا ہے جس کے نتیجے میں داعش کا ٹھکانہ تباہ اور اس میں موجود داعش کے تمام ارکان مارے گئے ہیں ۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کو اپنے …
کابل میں مسجد پر حملے کے بعد طالبان کی کارروائی، داعش کا ٹھکانہ تباہ ، ارکان ہلاک

مزید خبریں
کابل۔4اکتوبر (اے پی پی):طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مسجد پر داعش کے مشتبہ حملے کے بعد مجاہدین کے سپیشل یونٹ نے داعش کے خلاف آپریشن کیا ہے جس کے نتیجے میں داعش کا ٹھکانہ تباہ اور اس میں موجود داعش کے تمام ارکان مارے گئے ہیں ۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کو اپنے ٹویٹ میں کہا کہ اتوار کی رات کو کابل کے شمال میں داعش کے خلاف آپریشن کیا گیا جو کامیاب اور فیصلہ کن رہا اور اس آپریشن میں داعش کا ٹھکانہ تباہ اور اس میں موجود داعش کے تمام ارکان مارے گئے ۔فرانسیسی خبر رساں ادارے نے بتایا کہ کارروائ میں درجنوں طالبان کمانڈوز نے حصہ لیا اور یہ کئی گھنٹے جاری رہی۔ کارروائی کے دوران کابل کے مضافات میں واقع تین گھروں کو نشانہ بنایا گیا اور اس دوران دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔
واضح رہے کہ یہ آپریشن گزشتہ روز دارالحکومت کابل میں عید گاہ میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی والدہ مرحومہ کے لئے دعائیہ تقریب کے دوران ہونے والے حملے کے بعد کیا گیا ۔مسجد میں دعائی تقریب پر ہونےوالے اس حملے میں پانچ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ اس واقعہ کی تحقیقات ابھی جاری ہیں لیکن ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ یہ حملہ داعش سے منسلک کسی گروہ نے کیا ۔








