اقوام متحدہ ۔9جون (اے پی پی):اقوام متحدہ اور عالمی بینک نے مستقبل قریب میں کورونا وائرس کی وبا اور یوکرین جنگ کے باعث غذائی قلت کے بحران سے خبر دار کرتے ہوئے انسانی زندگیاں بچانے کے لئے فوری اقدات پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نےخبردار کیا کہ یوکرین تنازعہ دنیا بھر میں سماجی اور اقتصادی افراتفری کو جنم دے سکتا ہے لہذا ہمیں بحرانوں …
یوکرین تنازعہ دنیا بھر میں سماجی اور اقتصادی افراتفری کا باعث بن سکتا ہے، اقوام متحدہ ،غذائی قلت سے عالمی قحط پھیلنے کا خدشہ ہے، ورلڈ بینک کا انتباہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔9جون (اے پی پی):اقوام متحدہ اور عالمی بینک نے مستقبل قریب میں کورونا وائرس کی وبا اور یوکرین جنگ کے باعث غذائی قلت کے بحران سے خبر دار کرتے ہوئے انسانی زندگیاں بچانے کے لئے فوری اقدات پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نےخبردار کیا کہ یوکرین تنازعہ دنیا بھر میں سماجی اور اقتصادی افراتفری کو جنم دے سکتا ہے لہذا ہمیں بحرانوں کے حل اور لوگوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے آج سے عالمی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
دوسری جانب عالمی بینک نے افراط زر میں حالیہ اضافہ طویل عرصے تک بلند رہنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین میں جنگ، چین میں کورونا لاک ڈائون اور سپلائی چین میں خلل سے عالمی ترقی متاثر ہو رہی ہے ۔ یوکرین پر روسی حملے نے توانائی اور گندم کی عالمی تجارت کو درہم برہم کر دیا اور کورونا وائرس وبا کے اثرات سے بحال ہونے والی عالمی معیشت کو نشانہ بنایا ہے جس کے باعث غذائی قلت سے عالمی قحط پھیلنے کا خدشہ ہے۔
چینی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے یوکرین کشیدگی کے باعث خوراک، توانائی اور مالیات پر گلوبل کرائسس رسپانس گروپ (جی سی آر جی) کی جانب سے جاری کردہ دوسری رپورٹ کے لانچ پر کہا کہ یوکرین تنازعہ سے دنیا بھر کے لوگوں کے لیے دیگر بحرانوں کے ساتھ ساتھ بھوک ، بدحالی ،سماجی اور اقتصادی افراتفری کو جنم دینے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے اور لوگوں کے لیے نئی خونریزی اور نئے مصائب کو جنم دے رہا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ حالیہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ غذائی تحفظ ، توانائی اور مالیات پر جنگ کے اثرات تیز اور شدید ہیں جودنیا کو درپیش بہت سے دیگر بحرانوں جیسے آب و ہو اور عالمی عدم مساوات کو مزید بڑھا رہے ہیں ۔انہوں نے متنبہ کیا کہ جب کمزور طبقے کے لوگ اور کمزور ممالک سخت متاثر ہو رہے ہیں تو کوئی بھی ملک یا کمیونٹی افراط زر یا مہنگائی کے بحران سے نہیں بچ سکے گی۔
انہوں نے کہاکہ اشیائے خوردونوش اور کھاد کی قیمتیں ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں جس کے باعث ہر طرف خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھاد کی عدم یا قلت سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہو گی گی جس کا ایشیا اور جنوبی امریکا کے اربوں لوگوں پر تباہ کن اثر پڑے گا۔
انہوں نے کہاکہ رواں سال غذائی بحران رسائی نہ ہونے کے بارے میں ہے اور آئندہ سال خوراک کی کمی کے بارے میں ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یوکرین بحران کے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق سیاسی حل پر زور دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ خوراک اور توانائی کی عالمی منڈیوں میں استحکام لانا اور غریب ترین ممالک اور معاشروں کی مدد کے لیے فوری طور پر وسائل دستیاب کر نے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنازعات کے باوجود یوکرین کی خوراک کی پیداوار اور روس کی طرف سے تیار کردہ خوراک اور کھاد کو عالمی منڈیوں میں واپس لایا جانا چاہیے۔دریں اثنا عالمی بینک نے افراط زر میں حالیہ اضافہ طویل عرصے تک بلند رہنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین میں جنگ، چین میں کورونا لاک ڈائون اور سپلائی چین میں خلل سے عالمی ترقی متاثر ہو رہی ہے ۔
یوکرین پر روسی حملے نے توانائی اور گندم کی عالمی تجارت کو درہم برہم کر دیا اور کورونا وائرس وبا کے اثرات سے بحال ہونے والی عالمی معیشت کو نشانہ بنایا جس کے باعث غذائی قلت سے عالمی قحط پھیلنے کا خدشہ ہے اور بہت سے ممالک کے لیے کساد بازاری سے بچنا مشکل ہو گا۔
جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق عالمی بینک نے اپنی نئی گلوبل اکنامک پراسپیکٹس رپورٹ میں خبردار کیا کہ اضافی منفی اعشاریے عالمی معیشت کی 1970کی دہائی کے سٹیگ فلیشن جو زیادہ افراط زر اور سست نمو کا مرکب ہے،کے دور کا تجربہ دہرانے کے امکانات میں اضافہ کریں گے۔
عالمی بینک کے سربراہ ڈیوڈ مالپاس نے کہا کہ اجناس کی قیمتوں میں اضافے سے ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کی قوت خرید متاثر ہونے کے خدشات لاحق ہیں۔ غذائی قلت کے نتیجے میں بھوک میں اضافے اور یہاں تک کہ قحط پھیلنےکا شدید خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے بیشتر حصوں میں کمزور سرمایہ کاری کی وجہ سے شرح نمو کی سست رفتاری ممکنہ طور پر ایک پوری دہائی تک برقرار رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ اب بہت سے ممالک میں افراط زر کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے جبکہ رسد میں آہستہ آہستہ اضافے کی توقع ہے، اس صورتحال کے باعث افراط زر لمبے عرصےتک بلند رہنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین میں جنگ، چین میں کورونا لاک ڈائون اور سپلائی چین میں خلل سے عالمی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔
یوکرین پر روس کے حملے نے توانائی اور گندم کی عالمی تجارت کو درہم برہم کر دیا اور کورونا وائرس وبا کے اثرات سے نجات پا رہی عالمی معیشت کو نشانہ بنایا۔ اجناس کی قیمتوں میں اضافے سے ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کی قوت خرید متاثر ہونے کے خدشات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غذائی قلت کے نتیجے میں بھوک میں اضافے اور یہاں تک کے قحط پھیلنےکا شدید خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک کے لیے کساد بازاری سے بچنا مشکل ہو گا۔عالمی بینک نے رواں سال کے لیے اپنی شرح نمو کے تخمینے میں ایک فیصد سے زیادہ کمی کر دی ہے۔ بینک ماہرین نے سٹیگ فلیشن کے خطرے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے جو زیادہ افراط زر اور سست نمو کا مرکب ہے۔
عالمی بینک نے رواں سال شرح نمو میں 2.9 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔ عالمی بینک نے جنوری میں 2022کے لئے شرح نمو میں4.1 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی تھی۔ عالمی بینک نے آئندہ مالی سال یعنی 2023 اور 2024 کے لیے پیداواری شرح میں 3 فیصد اضافے کی پیش گوئی بھی کی ہے۔
بینک کو توقع ہے کہ رواں سال تیل کی قیمتوں میں 42 فیصد اضافہ ہوگا جبکہ توانائی سے ہٹ کر دیگر اشیاکی قیمتوں میں 18 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ عالمی بینک نے موجودہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا موازنہ 1980کی دہائی کے تیل کے بحران سے کیا ہے۔








