یمن میں جنگ کے باعث 22 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہوئے، یونیسیف

صنعاء۔ 14 دسمبر (اے پی پی) یمن میں جنگ کے باعث 22 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ بدھ کو ذرائع ابلاغ نے بچوں کے عالمی فنڈز ( یونیسیف ) کے حوالہ سے بتایا کہ گذشتہ دوسالوں میں جنگ کے باعث یمن کا صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے یونیسیف نے کہا ہے کہ اس وقت462000 یمنی بچے شدید غذائی قلت کے باعث بیمار …

صنعاء۔ 14 دسمبر (اے پی پی) یمن میں جنگ کے باعث 22 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ بدھ کو ذرائع ابلاغ نے بچوں کے عالمی فنڈز ( یونیسیف ) کے حوالہ سے بتایا کہ گذشتہ دوسالوں میں جنگ کے باعث یمن کا صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے یونیسیف نے کہا ہے کہ اس وقت462000 یمنی بچے شدید غذائی قلت کے باعث بیمار ہیں اور سعدا نامی صوبہ کے مختلف علاقوں میں ہر 10 میں سے آٹھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جو کہ غذائی قلت کی ہوشربا شرح ہے ۔یمن میں یونیسیف کے قائم مقام کنٹری نمائندہ ریلانو نے کہا ہے کہ جنگ کے باعث غذائی قلت، اسہال اور سانس کی انفیکشن سے یمن میں ہر 10 منٹ میں ایک بچہ ہلاک ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا یونیسیف نے 2016 ءمیں غذائی قلت کے شکار 215000 بچوں کا علاج کیا ہے اور 5 سال سے کم عمر 40 لاکھ بچوں کو وٹامنز کے سپلیمنٹ دیئے ہیں ۔

Leave a Reply