سائنسدانوں نے کشش ثقل کی لہروں کی تلاش ،انسانی اعضاءکی تیاری ،کاربن ڈائی آکسائیڈ کو چونے کے پتھر میں تبدیل کرنے،تنزانیہ میں ہیلیم گیس کے ذخائر اورلامتناہی ڈیٹا اسٹوریج کو 2016 کی بہترین دریافتیں اور ایجادات قرار دے دیا

واشنگٹن ۔ 26 دسمبر (اے پی پی) سائنسدانوں نے کشش ثقل کی لہروں کی تلاش ،انسانی اعضاءکی تیاری ،کاربن ڈائی آکسائیڈ کو چونے کے پتھر میں تبدیل کرنے،تنزانیہ میں ہیلیم گیس کے ذخائر،ایچ آئی وی ویکسینسن اورلامتناہی ڈیٹا اسٹوریج کو 2016 کی بہترین دریافتیں اور ایجادات قرار دیا ہے ۔رواں برس دنیا بھر میں ہونے والی یہ دریافتیں اور ایجادات جو طویل المدتی بنیادوں پر انسان کی مدد کریں گی۔جون …

واشنگٹن ۔ 26 دسمبر (اے پی پی) سائنسدانوں نے کشش ثقل کی لہروں کی تلاش ،انسانی اعضاءکی تیاری ،کاربن ڈائی آکسائیڈ کو چونے کے پتھر میں تبدیل کرنے،تنزانیہ میں ہیلیم گیس کے ذخائر،ایچ آئی وی ویکسینسن اورلامتناہی ڈیٹا اسٹوریج کو 2016 کی بہترین دریافتیں اور ایجادات قرار دیا ہے ۔رواں برس دنیا بھر میں ہونے والی یہ دریافتیں اور ایجادات جو طویل المدتی بنیادوں پر انسان کی مدد کریں گی۔جون 2016ءمیں انسان نے پہلی بار کشش ثقل کی لہروں کو ریکارڈ کیا۔ البرٹ آئن اسٹائن نے 1916ءمیں اپنے نظریہ اضافت کے ساتھ کشش ثقل کی لہروں کی موجودگی کا نظریہ بھی پیش کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے تشکیل کائنات کے بارے میں معلومات کا ایک اور دروازہ کھل گیا ہے۔مئی 2016ءمیں دنیا میں پہلی بار دو خواتین کے بیضے اور ایک مرد کے سپرم کے ذریعے ایک بچے کی پیدائش کو ممکن بنایا گیا۔ میکسیکو میں پیدا ہونے والا یہ بچہ مکمل طور پر صحت مند ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے ذریعے بچے کو ماں سے منتقل ہونے والی جینیاتی بیماریوں سے بچایا جا سکے گا۔رواں برس امریکی سائنسدانوں نے خنزیر کے جسم کے اندر انسانی اعضاءتیار کرنے کا کامیاب تجربہ کیا۔ جینز میں رد وبدل کرتے ہوئے سائنسدانوں نے خنزیر کے جنینز میں انسانی خلیے کو شامل کیا جس سے 28 دن بعد انسانی اعضاءکی تیاری کا آغاز ہو گیا۔

Leave a Reply