اسلام آباد ۔ 28 دسمبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو(نیب)کے چیئرمین قمرزمان چوہدری نے کہا ہے کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے پر عزم ہے، پلی بارگین کا مقصد عوام کی لوٹی ہوئی رقم کی واپسی کے ساتھ ساتھ لٹیروں کی معافی نہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ پلی بارگین ایک سزا ہے جس میں ملزم صرف …
نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے پر عزم ہے، چیئرمین قمرزمان چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 دسمبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو(نیب)کے چیئرمین قمرزمان چوہدری نے کہا ہے کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے پر عزم ہے، پلی بارگین کا مقصد عوام کی لوٹی ہوئی رقم کی واپسی کے ساتھ ساتھ لٹیروں کی معافی نہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ پلی بارگین ایک سزا ہے جس میں ملزم صرف جیل نہیں جاتا سزا کے تمام لوازمات اس پر لاگو ہوتے ہیں۔ اگر کرپشن میں ملوث کوئی سرکاری ملازم پلی بارگین کرتا ہے تو اسے سرکاری ملازمت سے ڈسمس کردیا جاتا ہے اور وہ ساری عمر سرکاری ملازمت نہیں کرسکتا اگر کوئی منتخب عوامی نمائندہ کرپشن کے الزام میں نیب سے پلی بارگین کرتا ہے تو وہ دس سال کیلئے نااہل ہوجاتا ہے اور آئندہ کوئی الیکشن نہیں لڑ سکتا اور کوئی کاروباری شخص پلی بارگین کرتا ہے تو وہ بینک سے کوئی لین دین نہیں کرسکتا اور وہ کوئی اکاﺅنٹ نہیں کھلوا سکتا ۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک بلوچستان کے سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی اور مشیر خزانہ خالد لانگو کے کیسز کا تعلق ہے ۔انہوں نے انکوائری کے دوران رقم کی رضاکارانہ واپسی کی درخواست دی رضاکارانہ واپسی سکیم کے ذریعے کسی کو سزا نہیں ملتی نیب نے ان کی رضاکارانہ واپسی کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔ تاہم اگلے مرحلے میں ان کی پلی بارگین کی درخواست منظور کی گئی۔








