چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ سال رواں مکمل عملدرآمد کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، سی پیک کے تحت 39 منصوبے مکمل کئے جائیں گے جن میں سے بیشتر توانائی سے متعلق ہیں، پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت 16 منصوبے جلد مکمل کئے جائیں گے، کراچی میں پورٹ قاسم پر کوئلے سے چلنے والے توانائی منصوبے پر کام جاری ہے اور توقع ہے کہ یہ مقررہ مدت سے قبل …
چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ سال رواں مکمل عملدرآمد کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، رپورٹ

مزید خبریں
چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ سال رواں مکمل عملدرآمد کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، سی پیک کے تحت 39 منصوبے مکمل کئے جائیں گے جن میں سے بیشتر توانائی سے متعلق ہیں، پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت 16 منصوبے جلد مکمل کئے جائیں گے، کراچی میں پورٹ قاسم پر کوئلے سے چلنے والے توانائی منصوبے پر کام جاری ہے اور توقع ہے کہ یہ مقررہ مدت سے قبل مکمل ہو گا، رپورٹ
کراچی ۔ 28 دسمبر (اے پی پی) چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ سال رواں مکمل عملدرآمد کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، سی پیک کے تحت 39 منصوبے مکمل کئے جائیں گے جن میں سے بیشتر توانائی سے متعلق ہیں، پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت 16 منصوبے جلد مکمل کئے جائیں گے، کراچی میں پورٹ قاسم پر کوئلے سے چلنے والے توانائی منصوبے پر کام جاری ہے اور توقع ہے کہ یہ مقررہ مدت سے قبل مکمل ہو گا، تین سال سے جاری چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف نے پورے خطے کیلئے گیم چینجر منصوبہ قرار دیا ہے اور اب یہ منصوبہ سال رواں کے دوران مکمل عملدرآمد کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور اس نے نمایاں ترقی کی ہے۔ پاکستان میں چین کے سفیر سن وی ڈونگ نے کئی مواقع پر اس بات کا اعادہ کیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت 16 منصوبے جلد مکمل کئے جائیں گے جن میں متعدد بجلی گھروں کی تعمیر، شاہراہیں اور گوادر بندرگاہ سے منسلک منصوبے ہیں جو زیر تعمیر ہیں جبکہ اس کے تحت ہزاروں مقامی افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔ یہ بات چین کی خبر رساں ایجنسی ”سنہوا“ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتائی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ دونوں برادر ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ چین کے سفیر نے 17 دسمبر کو کراچی میں مزار قائد پر نئے فانوس نصب کرنے کی تقریب کے دوران اس بات کا واضح اظہار کیا کہ ےہ منصوبہ دونوں ملکوں کے درمیان وسیع تر ترقی کیلئے دوستانہ تعلقات کے سنہرے دور کا آغاز ہے۔








