20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان وفاق اور وفاقی اکائیوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے جس میں زیادہ تر نکات صوبائی حکومتوں کے انتظامی دائرہ کار میں آتے ہیں ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ اور حکومت سندھ کے بیانات پر وفاقی وزارت داخلہ کے ترجمان کا ردعمل اسلام آباد ۔ 3 جنوری (اے پی پی) وزارت داخلہ کے ترجمان نے کراچی میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ …
ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ اور حکومت سندھ کے بیانات پر وفاقی وزارت داخلہ کے ترجمان کا ردعمل

مزید خبریں
20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان وفاق اور وفاقی اکائیوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے جس میں زیادہ تر نکات صوبائی حکومتوں کے انتظامی دائرہ کار میں آتے ہیں
ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ اور حکومت سندھ کے بیانات پر وفاقی وزارت داخلہ کے ترجمان کا ردعمل
اسلام آباد ۔ 3 جنوری (اے پی پی) وزارت داخلہ کے ترجمان نے کراچی میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ اور حکومت سندھ کے بیانات پر ردعمل میں کہا ہے کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ بغیر کسی ثبوت اور اصل حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے قومی سلامتی کے ایشو کو استعمال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ اور حکومت سندھ کے ترجمان نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے وفاقی حکومت پر ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان وفاق اور وفاقی اکائیوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے جس میں زیادہ تر نکات صوبائی حکومتوں کے انتظامی دائرہ کار میں آتے ہیں۔ میڈیا پر دہشتگردوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے مبینہ بیان کے حوالے سے ترجمان نے اس بیان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ ملک کے آزاد میڈیا نے بڑی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ میڈیا کے اداروں اے پی این ایس سی پی این ای پی بی اے اور پی ایف یو جے کے نمائندوں کے ساتھ وزیر داخلہ کی ملاقات کے نتیجے میں آزاد میڈیا نے دہشتگردوں کو بلیک آﺅٹ کرنے کے لئے کمٹمنٹ کی اور میڈیا نے اس کمٹمنٹ کو سچ ثابت کرکے دکھایا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کو ریلیوں کے انعقاد اور کھلے عام جلسہ کرنے کی اجازت دینے کا الزام بالکل غلط ہے۔








