پاکستان کو روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کو فروغ دینا چاہیے، مہر کاشف یونس

اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر مہر کاشف یونس نے کہا ہے کہ ایشیا میں روس کا اقتصادی پھیلائو نسبتاً کم ہے اور پاکستان اقتصادی تعاون کو بڑھانے اور روسی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ پیر کو یہاں ’’یوم روس‘‘ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روس اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کے قیام کی …

اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر مہر کاشف یونس نے کہا ہے کہ ایشیا میں روس کا اقتصادی پھیلائو نسبتاً کم ہے اور پاکستان اقتصادی تعاون کو بڑھانے اور روسی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ پیر کو یہاں ’’یوم روس‘‘ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روس اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کی وجہ سے یہ سال ہمارے تعلقات میں ایک بہت اہم سنگ میل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھا شگون ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے وفاقی اسمبلی سے اپنے حالیہ خطاب میں پاکستان کا واضح طور پر تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان چند ممالک میں سے ایک ہے جن کے ساتھ روس شراکت داری کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ مہر کاشف یونس نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت کے عملی اقدامات بھی اس امر کے غماز ہیں۔

روس اور پاکستان نے مضبوط سیاسی عزم کا مظاہرہ اور تجارتی تعاون بڑھانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان کی اقتصادی تعلقات اور توانائی کے حصول کی کاوشیں اور روس کی ایشیا میں اپنے اقتصادی قدموں کو مضبوط کرنے کی خواہش دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاجر برادری نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے روس سے سستا خام تیل درآمد کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور ہم متنوع شعبوں میں دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس کو ’انرجی سپر پاور‘ مانا جاتا ہے، وہ دنیا میں قدرتی گیس کا سب سے بڑا اور تیل کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ ہے۔ وہ طویل عرصے سے یورپی یونین کو قدرتی گیس اور پٹرولیم کا پرنسپل سپلائر رہا ہے۔

تاہم اب جبکہ ’گرین ڈیل‘ کے تحت یورپ ڈی کاربنائزیشن اور قابل تجدید توانائی کی طرف بڑھ رہا ہے، روس کو اپنی توانائی کی مصنوعات کے لیے نئی منڈیوں کی ضرورت ہے۔ اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک دفاع کے علاوہ دو طرفہ اقتصادی تعاون کو بھی فروغ دیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو 1.5 بلین کیوبک فٹ یومیہ گیس کے شارٹ فال کا سامنا ہے اور یہ شارٹ فال 2025 تک دوگنا ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اندازوں کے مطابق پاکستان میں گھریلو گیس کی سپلائی 2028 میں 3.51 بی سی ایف ڈی سے کم ہو کر 1.67 ہو جائے گی اور اس طلب کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی کی درآمدات میں اضافہ کی ضرورت ہے۔

مہر کاشف یونس نے کہا کہ پاکستان نے 2015 میں ایل این جی کی درآمد شروع کی تاکہ تیل کی درآمد اور اس کی کھپت کو کم کیا جا سکے۔ صرف پچھلے سات سال میں پاکستان ایل این جی درآمد کرنے والا دنیا کا نواں بڑا ملک بن گیا ہے۔ قطر اس وقت پاکستان کو گیس فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور قطر اب بھی توانائی کے مزید شراکت داروں کی تلاش میں ہے۔