اسلام آباد ۔ 16 جنوری (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات ، نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان بار بار عدالت کے باہر آ کر اپنا مقدمہ لڑ رہے ہیں، عدالت کے باہر مقدمہ لڑنے والوں کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملے گا، عمران خان نے عدالت سے باہر آ کر کہا کہ ہم ویڈیو گیمز کھیل رہے تھے، عمران خان گزشتہ …
وزیر مملکت اطلاعات،نشریات وقومی ورثہ مریم اورنگزیب کی میڈیا سے گفتگواور بیان
اسلام آباد ۔ 16 جنوری (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات ، نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان بار بار عدالت کے باہر آ کر اپنا مقدمہ لڑ رہے ہیں، عدالت کے باہر مقدمہ لڑنے والوں کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملے گا، عمران خان نے عدالت سے باہر آ کر کہا کہ ہم ویڈیو گیمز کھیل رہے تھے، عمران خان گزشتہ تین سال سے ویڈیو گیمز ہی کھیل رہے ہیں اور آئندہ بھی ویڈیوگیمز ہی کھیلتے رہیں گے، وزیر اعظم نے کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولا کیونکہ وہ جھوٹ بولنے کے عادی نہیں ہیں یہ عادت کسی اور کی ہے، اگر عمران خان یہ چاہتے ہیں کہ وہ بغیر کسی ثبوت کے وزیر اعظم نواز شریف کو ان کے عہدے سے برطرف کروا دیں تو ایسا نہیں ہو سکتا، خواہشات کی بنا پر عدالت میں کیس نہیں لڑے جاتے، عمران خان 2018 ءسے نہیں بلکہ ابھی سے مریم نواز سے ڈر رہے ہیں، عمران خان اداروں کی عزت واحترام کا خیال رکھیں، آج ان کا بیان کہ ” آدھا سپریم کورٹ سو رہا تھا “ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ عمران خان خود غفلت کی نیند سو رہے ہیں اور قوم کو گمراہ کررہے ہیں، عمران خان کے جو منہ میں آتا ہے بول دیتے ہیں۔ پیر کو یہاں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے پارلیمان میں یا عوام سے خطاب کے دوران کبھی کوئی متضاد بات نہیں کی اور نہ ہی جھوٹ بولا کیونکہ وہ جھوٹ بولنے کے عادی نہیں ہیں، یہ عادت کسی اور کی ہے اور بار بار یہ سچ سامنے آجاتا ہے کہ یہ قابلیت کس میں ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ عمران خان گزشتہ کئی روز سے عدالت کے باہر آ کر اپنا مقدمہ لڑ رہے ہیں، وہ آج یہ کہہ رہے ہیں کہ عدالت میں پانامہ پیپرز کے بارے بات نہیں ہو رہی، نواز شریف کے بارے میں بات نہیں ہو رہی۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کے وکیل سپریم کورٹ میں دلائل دے رہے ہیں اور کیونکہ میاں محمد نواز شریف کا پانامہ کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے،اس لئے پانامہ کا ذکر نہیں ہو رہا، دوسری طرف کورٹ میں ہمارے وکیل نے ایسا فیصلہ پڑھ کر سنایا جس کا تعلق پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان سے تھا، ان کو شرمندگی سے بچانے کیلئے پورا کیس نہیں پڑھا گیا لیکن اس کی جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ اس فیصلے کے جواب میں عمران خان کہتے ہیں کہ انہوں نے الیکشن سے قبل جو بھی کہا اور کیا اس کا وہ جواب نہیں دے سکتے اور اس کا جواب نہیں مانگا جاسکتا۔








