اسلام آباد ۔ 16 جنوری (اے پی پی) وزارت داخلہ کے ترجمان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے بیان کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوغلے پن کے ساتھ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، متضاد بیانات دینا اور واویلا کرنا پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں کاوطیرہ بن چکا ہے۔ اپنے ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ اگر دفاعِ پاکستان اس قدر …
دوغلے پن کے ساتھ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، متضاد بیانات دینا اور واویلا کرنا پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں کا وطیرہ بن چکا ہے، وزارت داخلہ کے ترجمان کا بیان
اسلام آباد ۔ 16 جنوری (اے پی پی) وزارت داخلہ کے ترجمان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے بیان کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوغلے پن کے ساتھ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، متضاد بیانات دینا اور واویلا کرنا پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں کاوطیرہ بن چکا ہے۔ اپنے ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ اگر دفاعِ پاکستان اس قدر ہی قابلِ اعتراض تنظیم تھی تو پیپلز پارٹی نے 2009ءمیں اس کے قیام کی مخالفت کیوں نہ کی، اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس وقت فرحت اللہ بابر کہاں تھے جب پیپلز پارٹی کے دور میں دفاعِ پاکستان کونسل کی جانب سے بڑے بڑے اجتماع اور میڈیا کانفرنسز کا انعقاد کیا جاتا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ سابق صدر اپنی مدت صدارت کے دوران ایوانِ صدر میں کالعدم تنظیموں کے ممبران سے ملاقاتیں کیا کرتے تھے، ان ملاقاتوں کی تصاویر ریکارڈ پر ہیں اور اخبارات میں چھپ چکی ہیں، شاید اس وقت فرحت اللہ بابر صاحب ایوان صدر میں ہوتے ہوئے بھی ان ملاقاتوں سے آگاہ نہیں تھے۔ ترجمان نے کہا کہ صرف سابق صدر ہی نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں کی ایک طویل لسٹ ہے جن کی کالعدم تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں ریکارڈ پر ہیں اور تصاویر بھی موجود ہیں جو کہ ضرورت پڑنے پر فراہم کی جا سکتی ہیں۔








