فیصل آباد ۔ 06 ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر آدم ایم ٹوگیو نے کہاہے کہ دو طرفہ تجارت کو متوازن بنانے کیلئے پاکستان کو ٹورازم، حلال اور دوسرے ان ٹیپڈشعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ انڈونیشیا کے ذریعے آسیان ممالک کو اپنی برآمدات کو بڑھانا ہوگا۔بدھ کوفیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی …
پاکستان کو ٹورازم، حلال ودیگرشعبوں میں تعاون بڑھانے سمیت انڈونیشیا کے ذریعے آسیان ممالک کو اپنی برآمدات کو بڑھانا ہوگا،آدم ٹوگیو
فیصل آباد ۔ 06 ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر آدم ایم ٹوگیو نے کہاہے کہ دو طرفہ تجارت کو متوازن بنانے کیلئے پاکستان کو ٹورازم، حلال اور دوسرے ان ٹیپڈشعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ انڈونیشیا کے ذریعے آسیان ممالک کو اپنی برآمدات کو بڑھانا ہوگا۔بدھ کوفیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے کے ذریعے پاکستان اور انڈونیشیا کی تجارت میں زبردست اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ انڈونیشیا کے مقابلے میں پاکستان کی تجارت بہت کم ہے مگر اس کو متوازن بنانے کیلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا نے اپنی برآمدات بڑھانے کیلئے 300مصنوعات کی فہرست تیار کی اور پھر اس کی برآمدات کو بڑھانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھی اس سلسلہ میں اپنی فاضل مصنوعات کی نشاندہی کر کے اِن کی روایتی اور غیر روایتی منڈیوں کو برآمد کیلئے ضروری اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انڈونیشیا سے پام آئل درآمد کرنے والا اہم ترین ملک ہے لیکن پاکستان سے برآمدات کو بڑھانے کیلئے کئی مسائل اور چیلنج درپیش ہیں جن میں معاشی پالیسیوں کاعدم تسلسل سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا کا سالانہ تجارتی ایکسپو اس سال 18سے 22 اکتوبر تک جکارتہ میں ہو رہا ہے۔
پاکستانی برآمد کنندگان کو اس میں شرکت کرنی چاہیے تاکہ وہ انڈونیشیا کے برآ مدی پوٹینشل کو سمجھ سکیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اسلام آباد میں انڈونیشیا کا سفارتخانہ اس سلسلہ میں تاجروں کو ویزا سمیت ہر ممکن سہولتیں مہیا کرے گا۔
انہوں نے سیاحت کیلئے پاکستان سے بالی جانے والے لوگوں کا ذکر کیا اور کہا کہ اس ریجن میں پاکستانی ہوٹل کی صنعت کو بھی فروغ دے سکتے ہیں کیونکہ بہت سے لوگ پاکستان کی چٹ پٹی خوراک کھانے کو پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایکسپو کے فوراً بعد حلال مصنوعات بارے نمائش ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ حلال صنعت صرف حلا ل خوراک تک ہی محدود نہیں بلکہ کاسمیٹک اور فارما سوٹیکل سمیت دیگر کئی شعبوں میں اِس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2 ارب مسلمانوں کے علاوہ حلال اشیاء غیر مسلم ممالک میں بھی تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں ، ہم مل کر اس شعبہ میں بھی باہمی تعاون کو بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پرانے کپڑے درآمد کر کے اِن سے نئے کپڑے تیار کر رہا ہے، یہ بھی ایک بہت بڑا شعبہ ہے جس سے پاکستان کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان صرف ٹیکسٹائل کی برآمد پر توجہ دے رہا ہے حالانکہ اسے دیگر شعبو ں میں برآمدات کو بڑھانے کیلئے بھی فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی خام اشیاء جو انڈونیشیا میں دستیاب ہیں اس کی ویلیو ایڈیشن کر کے پاکستان آسیان کی بہت بڑی منڈی کو اِن کی برآمد کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو انڈونیشیا کے چین اور جاپان کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت بھی پاکستان انڈونیشیا کی تیار کر دہ بہت سی مصنوعات براہ راست درآمد کرنے کی بجائے چین، دوبئی اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے منگو ا رہا ہے جبکہ اُن کی براہ راست درآمدات سے پاکستان اپنے منافع میں اضافہ کر سکتا ہے۔
اِن اشیاء میں گاڑیوں کے فاضل پرزے اور ٹائر وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اِس سے قبل مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے سینئر نائب صدر ڈاکٹر سجا دارشد نے فیصل آباد اور فیصل آباد چیمبر کا تعارف کرایا اور بتایا کہ یہ صنعتی، تجارتی اور زرعی شہر ملک کے عین وسط میں واقع ہے جو سڑک، ریل اور فضائی رابطوں کے ذریعے پورے ملک سے منسلک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی مجموعی برآمدات میں اِس کا حصہ 60فیصد ہے جبکہ یہ شعبہ ملک کی 40فیصد افرادی قوت کو روزگار بھی مہیا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں فیڈمک کے زیر اہتمام جدید صنعتی علاقے قائم کئے گئے ہیں جہاں چین اور ترکی کے سرمایہ کار صنعتیں بھی لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خوردنی تیل کی 90فیصد ضروریات انڈونیشیا سے پوری کرتا ہے مگر اِس کے برعکس پاکستان کی ٹیکسٹائل کی برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دو طرفہ تجارت کو متوازن بنانے کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی وفود کے تبادلے ہونے چاہئیں۔ اس موقع پر سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی جس میں محمد اظہر چوہدری اور شیخ محمد فاضل نے حصہ لیا۔ سینئر نائب صدر ڈاکٹر سجاد ارشد نے انڈونیشیا کے سفیر آدم ٹوگیو کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی اعزازی شیلڈ پیش کی جبکہ انڈونیشیا کے سفیر نے بھی انہیں خصوصی نشان دیا۔ آخر میں سابق صدر مزمل سلطان نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ انڈونیشیا کے سفیر نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کئے۔









