لاہور۔13ستمبر (اے پی پی):نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی نے ایل ڈی اے ون ونڈو سیل اور لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ہیڈ آفس کا دورہ کیا۔ وزیراعلی نے نشتر پارک سپورٹس کمپلیکس میں 214 نئی ایمبولینس گاڑیاں محکمہ پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے سپرد کیں۔وزیر اعلی نے ایل ڈی اے ون ونڈو سیل کے دورے کے موقع پر شہریوں سے ملاقات کی اور درخواستوں پر پراگرس کا پوچھا۔شہریوں نے درخواستیں نمٹانے کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کیا۔وزیر اعلی محسن نقوی نے شہریوں کی شکایات کے ازالے کیلئے موقع پر ہی احکامات جاری کئے۔
بعض سائلین نے منشا بم اور قبضہ مافیا کے خلاف شکایات کیں۔وزیر اعلی نے متاثرہ شہریوں کو کمیٹی روم میں بلایا اور ہر ایک کے مسئلے کو خود سنا۔متاثرہ شہریوں نے منشا بم قبضہ مافیا کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیئے۔وزیراعلی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور کو ایل ڈی اے آفس بلایا۔وزیر اعلی محسن نقوی نے فی الفور منشا بم اور دیگر قبضہ کے خلاف کاروائی کا حکم دیا اورسی سی پی او لاہور اور ڈی جی ایل ڈی اے کو بلا تاخیر کاروائی کی ہدایت کی۔وزیر اعلی محسن نقوی نے کہا کہ متاثرین کو حق دلوائیں گے،
کسی سے زیادتی نہیں ہو گی۔منشا بم اور اس طرح کے دیگر قبضہ مافیا سے قانون کے آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائے گا۔قبضہ مافیا کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈائون ہو گا۔ وزیر اعلی محسن نقوی نے ایل ڈی اے کے پورے سسٹم کو ڈیجٹلائزڈ کرنے کا پلان طلب کر لیا۔وزیر اعلی نے کہا کہ شہریوں کی سہولت کیلئے ایل ڈی اے کو ڈیجیٹل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ ون ونڈو سیل میں بہتری آئی ہے تاہم اس سے کم وقت میں شہریوں کو دستاویزات ملنی چاہئیں۔ڈی جی ایل ڈی اے نے وزیر اعلی محسن نقوی کو بریفنگ دی۔
بعد ازاں وزیراعلی محسن نقوی نے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ہیڈ آفس شاہین کمپلیکس کا دورہ کیا اورعملے سے ملاقات کی،وزیراعلی نے ایل ڈبلیو ایم سی کے کنٹرول روم او رآپریشنل روم کامعائنہ کیا۔وزیر اعلی محسن نقوی کی زیر صدارت ادارے کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ وزیراعلی نے ایل ڈبلیو ایم سی کو مالی خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے پلان طلب کر لیا۔وزیراعلی نے ایل ڈبلیو ایم سی کو دبئی میں سالڈ ویسٹ کی سروسز فراہم کرنے کے لئے بڈ میں حصہ لینے کی اجازت دی۔
وزیراعلی نے لاہور کی چند بڑی سوسائٹیز میں صفائی کا نیا قابل عمل پلان طلب کر لیا،جس کے تحت گلبرگ،گارڈن ٹائون،جوہر ٹائون،مسلم ٹائون،فیصل ٹائون اور دیگر سوسائٹیز میں کوڑا کرکٹ کو فروخت کرنے کے پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔لاہور کے چند علاقوں میں کوڑا کرکٹ کی فروخت کے ماڈل کا جائزہ لے کر باقی علاقوں میں نافذالعمل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔وزیراعلی محسن نقوی نے چھوٹے گھروں پر کوڑا کرکٹ کے چارجز لگانے کی تجویز مسترد کر دی۔
اجلاس میں ہر ہائوسنگ سوسائٹی سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کے چارجز وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔عدم ادائیگی کی صورت میں ہائوسنگ سوسائٹی کو کوڑا اٹھانے اور ڈمپنگ سائٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔وزیراعلی محسن نقوی نے ویسٹ ٹو انرجی قابل عمل پلان طلب کر لیا۔محسن نقوی نے کہاکہ کوڑا کرکٹ سے انرجی پیدا کرنے کیلئے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کریں گے۔
وزیراعلی نے ایل ڈبلیو ایم سی کو کمپوزڈ فرٹیلائزر کی تیاری کے لئے پلانٹ کو پوری طرح فنکشنل کرنے کی ہدایت کی۔صوبائی وزیر لوکل گورنمنٹ واطلاعات عامرمیر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری،ایل ڈبلیو ایم سی کے چیئرمین سردار اسلم وڑائچ،سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ،سیکرٹری فنانس،سپیشل سیکرٹری بلدیات پرویز اقبال،کمشنرلاہور،ڈپٹی کمشنر لاہور او رمتعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ایل ڈبلیو ایم سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بابر صاحب دین نے وزیراعلی کو بریفنگ دی۔
وزیراعلی محسن نقوی نے نشتر سپورٹس کمپلیکس میں 214 ایمبولینس گاڑیاں محفوظ ماں،محفوظ مستقبل پروگرام کے تحت دیہی مراکز صحت و بنیادی مراکز صحت کے لئے فراہم کرنے کے پروگرام کا آغاز کیا اور ایمبولینس کی علامتی چابی صوبائی وزیر پرائمری وسکینڈری ہیلتھ ڈاکٹر جمال ناصر اور سیکرٹری پرائمری و سکینڈری ہیلتھ کے سپرد کی۔وزیر اعلی محسن نقوی ایمبولینس میں بیٹھے اور ایمبولینس کا معائنہ کیا اور ایمبولینس میں دستیاب سہولتوں کا جائزہ لیا۔ سیکرٹری پرائمری و سکینڈری ہیلتھ علی جان نے رورل ایمبولینس سروس کے بارے میں بریفنگ دی۔
وزیراعلی محسن نقوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ رورل ایمبولینس سروس کو کامیابی سے چلانے پر صوبائی وزیر ڈاکٹر جمال ناصر، سیکرٹری صحت اور ان کی ٹیم کو مبارکباد کی مستحق ہے۔ہیلتھ سیکٹر کی بہتری ہمارے پلان میں شامل ہے۔پرائمری ہیلتھ کے بعض ہسپتال بہت بہتر حالت میں ورکنگ کررہے ہیں،مظفر گڑھ کا رجب طیب اردوان ہسپتال لاہور کے بعض بڑے ہسپتالوں سے بھی بہتر حالت میں ہے۔لاہور سمیت تمام بڑے ہسپتالوں کی ری ویمپنگ شروع کر چکے ہیں۔ 40,30 سال پرانے ہسپتالوں کو بہتر حالت میں لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ہیلتھ سیکٹر ہمارا مرکزی فوکس ہے، اس کو کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں ہونے دیں گے۔
ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ ہیلتھ سیکٹر کی بہتری کے لئے وزیراعلی محسن نقوی کا ویژن قابل تحسین ہے۔رورل ایمبولینس میں نئی گاڑیاں آنے سے سروسز میں بہتری آئے گی اور عوام کو سہولت ملے گی۔سیکرٹری صحت نے کہا کہ صوبے کے دیہات میں 493 ایمبولینسز اور بچے کی صحت اور ماں بچے کو صحت کی بہترین سہولتوں کی رسائی کے لئے کام کررہی ہیں۔
آئی آر ایم این سی ایچ پراجیکٹ کے تحت پنجاب کے دیہات میں 500 ایمبولینس گاڑیاں حاملہ خواتین وبچوں اور معذور افراد کو مراکز صحت تک پک اینڈ ڈراپ کی سروس دے رہی ہیں۔حاملہ خواتین اور ان کے اہل خانہ ٹال فری نمبر1034 پر کال کرکے مفت پک اینڈ ڈراپ کی سروس حاصل کر سکتی ہیں۔ہیضہ اور نمونیا میں مبتلا کمسن بچوں کو بھی مراکز صحت تک لانے کے لئے رورل ایمبولینس سروس حاصل کی جا سکتی ہے۔
معذور افراد بھی فزیو تھراپی کے لئے روزانہ ہسپتال جانے کے لئے رورل ایمبولینس سروس استعمال کر سکتے ہیں۔دور دراز دیہات میں 3 بنیادی مراکز صحت کے ساتھ ایک رورل ایمبولینس سروس منسلک ہو گی۔مریض کو ایمبولینس سروس کے ذریعے مراکز صحت سے ہسپتال بھی منتقل کیا جائے گا۔صوبائی وزرا،عامر میر،ڈاکٹر جاوید اکرم،ڈاکٹر جمال ناصر،صوبائی مشیر وہاب ریاض،ایڈیشنل چیف سیکرٹری،سیکرٹری صحت اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=390239