۔14فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یوکرین میں تنازع کے خاتمے اور امن قائم کرنے کے لیے کوئی معاہدہ کافی نہیں ہوگا، ہمیں مسئلے کی جڑ تک جانا ہو گا۔ ٹی آرٹی کے مطابق اقوام متحدہ کے پولیٹیکل افیئر یونٹ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل برائے یورپ، وسطی ایشیا اور امریکا میروسلاو جینکا نے روس کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یوکرین کے اجلاس میں …
یوکرین میں تنازع کے خاتمے اور امن قائم کرنے کے لیے کوئی معاہدہ کافی نہیں ہوگا، اقوام متحدہ

مزید خبریں
۔14فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یوکرین میں تنازع کے خاتمے اور امن قائم کرنے کے لیے کوئی معاہدہ کافی نہیں ہوگا، ہمیں مسئلے کی جڑ تک جانا ہو گا۔
ٹی آرٹی کے مطابق اقوام متحدہ کے پولیٹیکل افیئر یونٹ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل برائے یورپ، وسطی ایشیا اور امریکا میروسلاو جینکا نے روس کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یوکرین کے اجلاس میں رکن ممالک کو آگاہی کرائی۔یہ یاد دلاتے ہوئے کہ یوکرین پر روس کے قبضےکو 2 سال گزر چکے ہیں، انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ملک میں جھڑپوں کا معاملہ 2014 سے تعلق رکھتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ وہ یوکرین میں جنگ کے بڑھتے ہوئے تشدد اور شہریوں پر اس کے اثرات کے بارے میں فکر مند ہیں، اور یہ کہ ایک منصفانہ اور مستقل حل کو بتدریج کمزور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم جانتے ہیں کہ صرف امن معاہدے تشدد کے خاتمے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ قیام ِ امن کے لیے ہمیں مسئلے کی جڑ تک جانا چاہیے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کی بنیادی ضرورت اقوام متحدہ کے چارٹر، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ایک مستقل اور جامع امن ہے، انہوں نے تناؤ کو کم کرنے اور سفارتی کوششوں کو بڑھانے کی اپیل بھی کی۔








