فیصل آباد۔ 21 مارچ (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد خالد اقبال نے کہا کہ بیر کی کاشت کم آبپاش علاقوں میں آسانی سے کی جا سکتی ہے نیزاس کی کاشت ریتلی اور شور زدہ زمینوں میں بھی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے اے پی پی کو بتایاکہ بیر خشک سالی کا اچھی طرح مقابلہ کرسکتاہے اس لئے ایسے علاقے جہاں بارش بہت کم ہوتی ہو وہاں …
بیر کی کاشت کم آبپاش علاقوں میں آسانی سے کی جا سکتی ہے،اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 21 مارچ (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد خالد اقبال نے کہا کہ بیر کی کاشت کم آبپاش علاقوں میں آسانی سے کی جا سکتی ہے نیزاس کی کاشت ریتلی اور شور زدہ زمینوں میں بھی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے اے پی پی کو بتایاکہ بیر خشک سالی کا اچھی طرح مقابلہ کرسکتاہے اس لئے ایسے علاقے جہاں بارش بہت کم ہوتی ہو وہاں اس کو کامیابی سے کاشت کیا جاسکتاہے۔
انہوں نے کہا کہ بیر کا پودا 43 سے50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کو برداشت کرسکتاہے اور پودے کو خشک آب وہوا کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ اس کی شاخ تراشی بہت اہم ہے کیونکہ اس کا پھل نئی شاخوں پر لگتاہے اس لئے اس کی نباتاتی افزائش بڑھانے اور نئے پودے کے تنے مضبوط کرنےکے لئے اس کی شاخ تراشی بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب بیر کا پودا بڑا ہوجائے تو باغ میں دوسری فصلوں کی کاشت مشکل ہوجاتی ہے لیکن پہلے 5سالوں تک برسیم، سبزیاں اور دالیں اگائی جاسکتی ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ بیر کے پودے کو سایہ دار جگہ پر نہیں لگانا چاہیے علاوہ ازیں بیر کے پودے پر تمام پھل ایک وقت میں نہیں لگتا اس لئے اس کو توڑنے میں کئی ہفتے لگ جاتے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ بیر کی مختلف اقسام دہلی سفید، کریلا، صوفن وغیرہ ہر طرح کی زمین میں قابل کاشت ہیں۔








