موسمیاتی تبدیلیوں نے دنیا بھر میں کپاس کی فصل متاثر کی، سیکرٹری زراعت ثاقب علی عطیل

ملتان۔ 31 مارچ (اے پی پی):سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے کہا ہے کہ کپاس پاکستان سمیت کئی ممالک کی ایک اہم نقد آور فصل ہے۔ یہ تقریباً 7فیصد روزگار فراہم کرتی ہے اور دنیا بھر میں 250 ملین سے زیادہ لوگوں کی آمدنی کا ذریعہ بھی ہے۔ تاہم، موسمیاتی تبدیلیوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اس کی پیداوار پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ …

ملتان۔ 31 مارچ (اے پی پی):سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے کہا ہے کہ کپاس پاکستان سمیت کئی ممالک کی ایک اہم نقد آور فصل ہے۔ یہ تقریباً 7فیصد روزگار فراہم کرتی ہے اور دنیا بھر میں 250 ملین سے زیادہ لوگوں کی آمدنی کا ذریعہ بھی ہے۔ تاہم، موسمیاتی تبدیلیوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اس کی پیداوار پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

ان خیالات کااظہار کپاس پر آئی پی ایم ماڈل کے اثرات کا تعین کرنے کیلئے قائم کمیٹی کی تیسری سالانہ آئی پی ایم سروے رپورٹ پر اظہارخیال کرتے ہوئے کیا۔سیکرٹری زراعت ثاقب علی عطیل نے مزید کہا کہ درجہ حرارت میں اضافہ، وقفے وقفے سے بارشیں اور نقصان دہ کیڑوں کے حملہ میں اضافہ کی وجہ سے کپاس کی فصل میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس صورت کو دیکھتے ہوئے 2021 میں جنوبی پنجاب میں کپاس کی کاشت والے اضلاع میں ایک انقلابی قدم اٹھایا اور کپاس کے آئی پی ایم نمائشی پلاٹ لگانے کا فیصلہ کیا جس کے حیرت انگیز نتائج سامنے آئے۔ یہی عمل 2022 میں بھی بڑے پیمانے پر جاری رکھا گیا۔ دو سال کی شاندار کامیابی کے بعد 2023 میں آئی پی ایم کے نمائشی پلاٹوں کو پنجاب بھر میں لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ 2023 میں چھ ڈویژنوں بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، فیصل آباد، ملتان، سرگودھا اور ساہیوال میں کل 292 آئی پی ایم نمائشی پلاٹ لگائے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ سروے رپورٹ کے نتائج کی بنیاد پر یہ واضح ہے کہ کپاس کے تمام کاشتکاروں کو اپنے اخراجات کو کم کرنے اور زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے آئی پی ایم کے طریقوں پر عمل کرنا چاہیے۔ سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب نے بتایا کہ زرعی ماہرین نے سروے رپورٹ میں یہ تجاویز بھی دی ہیں کہ بڑے پیمانے پر آئی پی ایم ماڈل پر عملدرآمد کے لیے معاون مصنوعات جیسے پیلے چپکنے والے کارڈز، فیرومون ٹریپس، پی بی روپس، بائیو پیسٹی سائیڈز اور بائیو کارڈز وغیرہ کی دستیابی کو یقینی بنانا چاہیے۔ اس کے علاوہ کسانوں کوآئی پی ایم کے طریقوں کے مثبت اثرات کے بارے میں تربیت اور تعلیم دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔  واضح ہو کہ سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل کی ہدایت کے مطابق کپاس پر آئی پی ایم ماڈل کے اثرات کا تعین کرنے کیلئے قائم کمیٹی نے تیسری سالانہ آئی پی ایم سروے رپورٹ جاری کردی۔آئی پی ایم سروے کیلئے ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان،یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد،اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور غازی یونیورسٹی ڈی جی خان کے فیکلٹی ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جبکہ خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ انیڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یارخان،یونیورسٹی آف سرگودھا اور یونیورسٹی آف لیہ کی ٹیموں نے اپنے اپنے ڈویژنزمیں آئی پی ایم کے نمائشی اور غیر آئی پی ایم پلاٹوں کا سروے کرکے ایک جامع رپورٹ پیش کی۔

سروے رپورٹ کے مطابق آئی پی ایم پلاٹوں کی اوسط پیداوار 2021میں 34اعشاریہ22من فی ایکڑ اور 2022میں 31اعشاریہ41من فی ایکڑ جبکہ 2023میں 38اعشاریہ 89من فی ایکڑ تھی۔آئی پی ایم ماڈل پر من و عن عملدرآمد سے نمائشی پلاٹوں میں کپاس کی اوسط پیداوار میں ہر سال نمایاں اضافہ ہواہے۔

مزید خبریں