فیصل آباد۔ 11 جون (اے پی پی):فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی و پنجاب میڈیکل کالج کے ماہرین طب نے بتایا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں سالانہ 40کھرب سگریٹ پئے جاتے ہیں اور سگار، حقہ، پائپ کا استعمال اس کے علاوہ ہے جبکہ تمباکو کا دھواں جو 300 مرکبات کا آمیزہ ہے چھوٹے قطرات و زرات کی صورت میں سانس کی نالیوں میں داخل ہو کر انسانی جسم کانظام رفتہ رفتہ تباہ کر دیتا ہے نیز ایک سگریٹ میں 3سے 6ملی گرام تک نکوٹین پائی جاتی ہے جس کا 10سے90 فیصد حصہ پھیپھڑوں میں جذب ہو جاتا ہے جس کے 16 انتہائی خطرناک اجزا پھیپھڑوں کے سرطان کا موجب بنتے ہیں۔
انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ سگریٹ کے دھوئیں سے پیدا ہونے والی کاربن مونو آکسائیڈ خون کے سرخ خلیات میں نفوذ کر کے 5سے 10فیصد خون کو عملی تنفس کیلئے بیکار کر دیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روزانہ 10 سگریٹ پینے والوں میں پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ 7 گنا، روزانہ 20 سگریٹ پینے والوں میں 13گنا اور 30 سگریٹ پینے والوں میں 30 گنا بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیا ہو ا ہر ایک سگریٹ متعلقہ انسان کی عمر 12منٹ کم کر رہا ہے۔انہوں نے بتا یا کہ سگریٹ کا دھواں پاس بیٹھنے والوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔
ماہرین طب نے مزید بتایا کہ سگریٹ پھیپھڑوں کے سرطان کے علاوہ دل کی بیماریوں کا بھی موجب بن سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سگریٹ سے حاصل کیا جانے والا ٹیکس اس سے ہونے والے نقصانات کے مقابلے میں ہاتھی کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ انہوں نے دفاتر، کالجز، سکولز، ہسپتالوں، پبلک ٹرانسپورٹ، پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر عائد پابندی پر بھی سختی سے عملدر آمد کا مطالبہ کیا ہے۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=474912