اقوام متحدہ۔7اگست (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر او ایچ سی ایچ آر نے کہا ہے کہ غزہ میں سکولوں پر اسرائیلی فوج کے بڑھتے ہوئے حملے خوفناک ہیں، ان حملوں میں گزشتہ ماہ کم از کم 163 مقامی بے گھر فلسطینی شہید ہوئے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ او ایچ سی ایچ آر کے مطابق اسرائیلی فوج نے حملوں میں کم از …
غزہ میں سکولوں پر اسرائیل کے بڑھتے ہوئے حملے خوفناک ہیں ،اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔7اگست (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر او ایچ سی ایچ آر نے کہا ہے کہ غزہ میں سکولوں پر اسرائیلی فوج کے بڑھتے ہوئے حملے خوفناک ہیں، ان حملوں میں گزشتہ ماہ کم از کم 163 مقامی بے گھر فلسطینی شہید ہوئے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ او ایچ سی ایچ آر کے مطابق اسرائیلی فوج نے حملوں میں کم از کم 17 سکولوں کو نشانہ بنایا جس سے بین الاقوامی انسانی قانون (آئی ایچ ایل ) کے اصولوں کی تعمیل بشمول امتیاز، تناسب اور احتیاط بارے سنگین خدشات پیدا ہو ئے ہیں۔
او ایچ سی ایچ آر نے ایسے حملوں میں اضافے کی طرف بھی اشارہ کیا۔ گزشتہ پیر کے بعد سے کم از کم 7 سکولوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ،یہ سکول مبینہ طور پر مقامی بے گھر افراد ( آئی ڈی پیز) کے لیے پناہ گاہوں کے طور پر کام کر رہے تھے جبکہ ایک سکول فیلڈ ہسپتال کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہا تھا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ ہے کہ5 سکولوں کو فلسطینی عسکریت پسند استعمال کر رہے تھے لیکن اسرائیلی فوج نے اس بات کے کوئی ثبوت فراہم نہیں کئے ۔ او ایچ سی ایچ آر نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ بین الاقوامی انسانی قانون (آئی ایچ ایل ) کی خلاف ورزی ہے لیکن اسرائیل اس بات کو جواز بنا کر بین الاقوامی انسانی قانون بشمول تناسب، امتیاز اور فوجی کارروائیوں کے دوران احتیاط کے اصول کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا ۔ اسرائیل قابض طاقت کے طور پر بے دخل ہونے والی آبادیوں کو بنیادی انسانی ضروریات بشمول محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا بھی پابند ہے۔ او ایچ سی ایچ آر نے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف مسلسل مہلک طاقت کے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا، ان رپورٹس کے درمیان کہ 3 اگست کو 9فلسطینیوں کو شہید کیا گیا، جن میں 5 ایسے فلسطینی بھی شامل تھے جن کو بظاہر ماورائے عدالت سزائے موت دینے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی ۔
دریں اثنا انسانی حقوق کے آزاد ماہرین کے ایک گروپ نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تشدد کی مذمت کی اور اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کے ایک گاؤں پر راکٹ حملے پر روشنی ڈالی۔ ماہرین نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے ایک نیوز ریلیز میں کہا کہ ہمیں ان اموات پر سخت تشویش ہے، جو انسانی حقوں کی خلاف ورزی ہیں اور خطے میں تشدد اور نقل مکانی میں مزید اضافے کا خطرہ ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے مقرر کردہ ماہرین نے کہا کہ یہ واقعات مکمل، آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات سمیت تمام متعلقہ شواہد تک رسائی اور متعلقہ ممالک سے مکمل تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
انہوں نے سلامتی کونسل سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں ان تمام ذمہ داران کو مؤثر جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے جن کے اقدامات سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو خطرہ ہے۔ ایک الگ نیوز ریلیز میں آزادی رائے اور اظہار رائے کی آزادی سے متعلق انسانی حقوق کی آزاد ماہر، خصوصی رپورٹر آئرین خان نے غزہ میں یکم اگست کو اسرائیلی کارروائیوں کے دوران الجزیرہ کے صحافی اسماعیل الغول اور کیمرہ مین رامی الریفی کے قتل کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے جنگ میں جان بوجھ کر نشانہ بنانے سے مارے جانے والے صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی تعداد میں خوفناک اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج نےالجزیرہ کے صحافی اسماعیل الغول کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان پر عسکریت پسند گروپ کا کارکن ہونے کا الزام عائد کیا۔آئرین خان نے کہا کہ اایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی فوج صحافیوں کو قتل کرنے کے لائسنس کے طور پر بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے الزامات عائد کر رہی ہے، جو بین الاقوامی انسانی قانون کی سراسر خلاف ورزی ہے۔








