اسلام آباد ۔ 19 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر کامران مائیکل نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے تمام شہریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ اور انہیں تشدد سے بچانے کے لئے متعدد انتظامی اور پالیسی اقدامات کئے ہیں اور اسی تناظر میں پاکستان نے فروری 2016ءمیں انسانی حقوق کے بارے میں تاریخی قومی لائحہ عمل کی شروعات کیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے …
وفاقی وزیرسینیٹر کامران مائیکل کا جنیوا میں اقوام متحدہ کی ٹارچر کے خلاف کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر کامران مائیکل نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے تمام شہریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ اور انہیں تشدد سے بچانے کے لئے متعدد انتظامی اور پالیسی اقدامات کئے ہیں اور اسی تناظر میں پاکستان نے فروری 2016ءمیں انسانی حقوق کے بارے میں تاریخی قومی لائحہ عمل کی شروعات کیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے موثر اقدامات اٹھائے ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ کی ٹارچر کے خلاف کمیٹی ( سی اے ٹی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔بدھ کوجنیواسے یہاں موصولہ پیغام کے مطابق پاکستان نے تشدد کے خاتمہ بارے اقوام متحدہ کی کمیٹی کو ابتدائی رپورٹ بھی دی ہے جو کہ جینیوا میں گذشتہ روز منعقد ہونے والے سی اے ٹی کے 60ویں سیشن میں پیش کی گئی ۔اس سیشن میںغیر انسانی سزاﺅں اور برتاﺅ اور تشدد کے خاتمہ کے سلسلہ میں اقوام متحدہ کے کنونشن پر عمل درآمد کے حوالہ سے جائزہ بھی لیا گیا ۔








