’’پارکر سولر پروب‘‘ناسا کا خلائی جہاز 25 دسمبر کو سورج کے انتہائی قریب پہنچ سکتا ہے

لاس اینجلس۔24دسمبر (اے پی پی):خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کا خلائی جہاز ’’پارکر سولر پروب‘‘سورج کے انتہائی قریب پہنچ کر تاریخ رقم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس میں اسے کل 25 دسمبر کو کامیابی مل سکتی ہے۔ بی بی سی کے مطابق پارکر سولر پروب کو 2018 میں سورج کی طرف روانہ کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے یہ 430,000 میل فی گھنٹہ یعنی لندن …

لاس اینجلس۔24دسمبر (اے پی پی):خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کا خلائی جہاز ’’پارکر سولر پروب‘‘سورج کے انتہائی قریب پہنچ کر تاریخ رقم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس میں اسے کل 25 دسمبر کو کامیابی مل سکتی ہے۔

بی بی سی کے مطابق پارکر سولر پروب کو 2018 میں سورج کی طرف روانہ کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے یہ 430,000 میل فی گھنٹہ یعنی لندن سے نیویارک تک 30 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں پرواز کرنے کے برابر رفتار ہمارے نظام شمسی کے مرکز یعنی سورج کی جانب بڑھ رہا ہے۔

سورج کے انتہائی نزدیک شدید موسمی حالات اور درجہ حرارت کے باعث یہ خلائی جہاز گذشتہ کئی دن سے زمین سے رابطہ بھی نہیں کر سکا اور فی الحال سائنسدان اس مشن کی جانب سے ملنے والے سگنل کے منتظر ہیں۔

ناسا کے سائنسدانوں کو توقع ہے کہ یہ سگنل 27 دسمبر کو مل سکتا ہے۔اس سگنل سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ آیا یہ مشن سورج کے انتہائی قریب پہنچنے کے لیے درکار سخت ترین مراحل عبور کرنے میں کامیاب رہا ہے یا نہیں۔اس مشن کے ذریعے سائنسدانوں کو یہ جاننے میں بھی مدد ملے گی کہ سورج درحقیقت کیسے کام کرتا ہے۔

ناسا میں ہیڈ آف سائنس ڈاکٹر نکولا فوکس نے بتایا کہ لوگوں صدیوں سے سورج کے بارے میں پڑھتے آ رہے ہیں لیکن ہم سورج کے ماحول کا اُس وقت تک تجربہ نہیں کر سکتے جب تک ہم اس کے انتہائی قریب سے نہ گزریں۔

اپنے سفر کے دوران پارکر سولر پروب پہلے ہی 21 مرتبہ سورج کے پاس سےگزر چکا ہے اور ہر چکر میں یہ اس کے مزید قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔

تاہم سورج کے انتہائی قریب پہنچنے کا یہ ریکارڈ 25 دسمبر کی شام ٹوٹ سکتا ہے۔اس وقت یہ خلائی جہازسورج کی سطح سے 62 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔پارکر سولر پروب کو 1400 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور شدید تابکاری کو برداشت کرنا پڑے گا جو اس خلائی جہاز میں موجود الیکٹرانکس کو بھی جلا کر راکھ کر سکتا ہے۔

اس سے بچنے کے لئے اس خلائی جہاز کو ساڑھے چار انچ موٹی کاربن کی بنی شیلڈ سے محفوظ بنایا گیا ہے ۔سائنسدانوں کو امید ہے کہ یہ خلائی مشن جب سورج کی بیرونی فضا، جیسے کورونا کہتے ہیں، سے گزرے گا تو اس سے ایک طویل عرصہ سے حل طلب معمہ حل ہو پائے گا کہ سورج کی بیرونی فضا جس کو کورونا کہا جاتا ہے اتنی گرم کیوں ہے ۔

سورج کی سطح پر درجہ حرارت 6 ہزار ڈگری سیٹی گریڈ ہے لیکن اس کی بیرونی فضا جسے سورج گرہن کے دوران دیکھا جا سکتا ہے ، کا درجہ حرارت لاکھوں ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔

اس مشن کی مدد سے سائنسدانوں کو شمسی ہوا کو بہتر طور پر سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔ یہ ہوا چارج شدہ ذرات کے کورونا سے نکلنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔جب یہ ذرات زمین کے مقناطیسی میدان کے ساتھ ملتے ہیں تو آسمان چمک اٹھتا ہے۔

لیکن اس خلائی موسم سے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً اس سے پاور گرڈز، الیکٹرانکس اور مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔اس لئے سورج کے بارے میں سمجھنا، اس پر ہونے والی سرگرمیوں ، موسم، شمسی ہوا کے بارے میں جاننا زمین پر ہماری روزمرہ زندگی کے لیے انتہائی اہم ہیں