بیجنگ۔27دسمبر (اے پی پی):چینی حکام نے تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے پر7 امریکی فوجی صنعتی کمپنیوں اور ان کی انتظامیہ پرپابندیاں عائد کر دی ہیں۔ روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق چین کی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا ہے کہ مذکورہ پابندیاں 27 دسمبر سے نافذ العمل ہوں گے اور یہ پابندیاں ایرکوم، ہڈسن ٹیکنالوجیز، انسٹیٹو، اوشینیئرنگ انٹرنیشنل، ریتھیون آسٹریلیا، ریتھیون کینیڈا اور سارونک ٹیکنالوجیز کے خلاف عائد …
تائیوان کو اسلحہ کی فراہمی ، چین 7 نے امریکی فوجی صنعتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

مزید خبریں
بیجنگ۔27دسمبر (اے پی پی):چینی حکام نے تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے پر7 امریکی فوجی صنعتی کمپنیوں اور ان کی انتظامیہ پرپابندیاں عائد کر دی ہیں۔
روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق چین کی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا ہے کہ مذکورہ پابندیاں 27 دسمبر سے نافذ العمل ہوں گے اور یہ پابندیاں ایرکوم، ہڈسن ٹیکنالوجیز، انسٹیٹو، اوشینیئرنگ انٹرنیشنل، ریتھیون آسٹریلیا، ریتھیون کینیڈا اور سارونک ٹیکنالوجیز کے خلاف عائد کی گئی ہیں۔ ان پابندیوں سے چین میں ان امریکی کمپنیوں اور افراد کے رئیل سٹیٹ اور دیگر اثاثے منجمد کر دیئے گئے ہیں۔
ان پابندیوں کے تحت چینی اداروں اور افراد کو مذکورہ امریکی کمپنیوں کے ساتھ کسی بھی لین دین، تعاون، یا دیگر قسم کے تعامل میں ملوث ہونے سے ممانعت ہو گی۔چینی وزارت خارجہ نے نشاندہی کی کہ امریکا نے حال ہی میں ایک بار پھر ہتھیاروں کی شکل میں بڑی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کا اعلان کیا ہے ۔
بیان میں کہا گیاکہ امریکا کے مالی سال 2025 کے دفاعی بجٹ کے مسودے میں چین کے حوالے سے متعدد منفی شقیں شامل ہیں، جو ایک چین کے اصول کی سنگین خلاف ورزی کرتی ہیں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ یہ ہمارے ملک کے اندرونی معاملات میں سنگین مداخلت ہے، اس سے ہماری خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔








