پیرس۔9جنوری (اے پی پی):فرانس نے کہا ہے کہ یورپی یونین شام میں انسانی بنیاد پر امداد کی فراہمی اور ملکی انتظام کی بحالی کی راہ میں حائل پابندیاں فوری طور پر اٹھا سکتی ہے۔ اردو نیوز کے مطابق یہ بات فرانس کے وزیر خارجہ جین نویل بیراٹ نے ایک انٹرویو کے دوران کہی۔انہوں نے کہا کہ شام پر یورپی یونین کی ایسی پابندیوں جو انسانی امداد کی فراہمی اور ملک …
یورپی یونین شام میں انسانی بنیاد پر امداد کی فراہمی اور ملکی انتظام کی بحالی کی راہ میں حائل پابندیاں فوراً اٹھا سکتی ہے،فرانس

مزید خبریں
پیرس۔9جنوری (اے پی پی):فرانس نے کہا ہے کہ یورپی یونین شام میں انسانی بنیاد پر امداد کی فراہمی اور ملکی انتظام کی بحالی کی راہ میں حائل پابندیاں فوری طور پر اٹھا سکتی ہے۔
اردو نیوز کے مطابق یہ بات فرانس کے وزیر خارجہ جین نویل بیراٹ نے ایک انٹرویو کے دوران کہی۔انہوں نے کہا کہ شام پر یورپی یونین کی ایسی پابندیوں جو انسانی امداد کی فراہمی اور ملک کی بحالی میں حائل ہوں، کو فوری طور پر اٹھا یا جاسکتا ہے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یورپی یونین بھی امریکا کی طرح کا اقدام اٹھا سکتی ہے تاہم شام پر سے سیاسی پابندیاں اٹھانے کا دار ومدار اس بات پر ہوگا کہ نئی قیادت انتقال اقتدار اور سب کی شمولیت کو کیسے یقینی بناتی ہے۔جین نویل بیراٹ نے کہا کہ کچھ ایسی پابندیاں ہیں جو کہ آج انسانی امداد تک رسائی اور ملک کی بحالی میں رکاوٹ ہیں وہ فوری اٹھائی جاسکتی ہیں ،کچھ ایسی پابندیاں ہیں جن کے حوالے سے ہم اپنے یورپی شراکت داروں کے ساتھ بات کر رہے ہیں،تاہم ان کا دارومدار اس چیز پر ہوگا کہ شام میں سکیورٹی اور خواتین کے حوالے سے ہماری توقعات پر کتنی تیزی سے عمل ہوتا ہے۔
تین یورپی سفارتکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ یورپی یونین برسلز میں یونین کے وزرائے خارجہ کے 27 جنوری کو ہونے والے اجلاس تک کچھ پابندیاں ہٹانے پر اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔ان میں سے دو سفاتکاروں کا کہنا تھا کہ پابندیاں ہٹانے کا مقصد مالیاتی ٹرانزیکشن کی سہولت کاری کرنا ہے تاکہ فنڈ ملک میں آسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں ہوائی سفر کو آسان بنانا اور توانائی کے شعبے پر عائد پابندیوں کو کم کرنا ہے تاکہ ملک میں بجلی کی فراہمی میں بہتر ی آسکے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں بجلی کا شدید بحران ہے اور ملک کے اکثر علاقوں میں دن کے صرف تین گھنٹے کے لئے بجلی دستیاب ہوتی ہے۔ ادھر، عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ وہ دو مہینے کے اندر بجلی کی فراہمی بہتر کرکے روزانہ آٹھ گھنٹے ترسیل کرنا چاہتی ہے۔







