اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی قوم ایک دہائی کے سیاسی استحکام کے بغیر ترقی یافتہ ملک کا درجہ حاصل نہیں کر سکتی،قومی ترقی و خوشحالی کے لئے چار بنیادی ستون ہیں جن میں امن، سیاسی استحکام، پالیسیوں کا تسلسل اور مسلسل اصلاحاتی ایجنڈا شامل ہیں،یہ چار عناصر پر مبنی ایک مضبوط نظام قومی ترقی اور خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے۔انہون نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای)نے راستہ مقابلہ جاتی گرانٹ پروگرام کے تحت بدھ کو دو روزہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
پروفیسر احسن اقبال نے قومی ترقی کے اہداف کو آگے بڑھانے خصوصاً برآمدات کو 30 ارب ڈالر سے 100 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لئے قابلِ رسائی ڈیٹا، شواہد پر مبنی تحقیق اور پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم کتنی تیزی سے اپنی برآمدات کو بڑھا سکتے ہیں، یہ ہماری ترقی کا تعین کرے گا کہ ہم 100 ارب ڈالر کے برآمدی ہدف کو کتنی جلدی حاصل کر سکتے ہیں، اس کے لئے ہمیں 30-40 ڈگری کی بجائے 80-90 ڈگری کی نمایاں تبدیلی کی ضرورت ہے جو ڈیٹا اور شواہد پر مبنی رہنمائی سے ممکن ہوگی۔
دو روزہ سیمینار میں پالیسی تحقیق اور ترقیاتی حکمت عملیوں پر توجہ دی گئی۔ اس دوران چھ تکنیکی سیشنز میں 24 تحقیقی مقالے پیش کئے جا رہے ہیں۔کانفرنس میں "مقابلہ اور ترقی کے لیے ٹیکنالوجی”، "مالیاتی نظم و نسق”، "ترقی اور سستی”، "انسانی سرمائے اور مواقع”، "پائیدار ترقی” اور "سیاسی طرزِ حکمرانی” جیسے موضوعات پر گفتگو کی گئی۔چینی ترقیاتی ماڈل کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی نے سائنسی منصوبہ بندی کو اپنانے پر زور دیا جو ڈیٹا اور شواہد سے چلتی ہو، مرحلہ وار ترقی کی راہ اختیار کرے اور پہلے آسان راستے کو ترجیح دے تاکہ قومی ترقی کے مطلوبہ اہداف حاصل کئے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ تحقیق و ترقی کے کام کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنا ہو گا تا کہ قومی ترقی و خوشحالی میں مدد ملے اور یونیورسٹی لیبارٹریوں پر خرچ ہونے والے اربوں روپے کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے،محدود وسائل کے باوجود، ہمیں اپنی تحقیقاتی ایجنڈے پر توجہ مرکوز رکھنی چاہئے، ٹھوس خیالات اور حل پیش کرنے چاہئیں تاکہ درپیش چیلنجز سے نمٹا جا سکے اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر ہماری آمدنی میں اضافہ ہو۔
ماضی کی رکاوٹوں پر تبصرہ کرتے ہوئے احسن اقبال نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا، نظام کو پٹڑی سے اتار دیا گیا، جس کی وجہ سے اس ایجنڈے کی تکمیل ممکن نہ ہو سکی۔انہوں نے یاد دلایا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے دہشت گردی کا خاتمہ کیا، طویل لوڈشیڈنگ ختم کی، اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے پہلے مرحلے میں تقریباً 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کے بڑے ممالک کے سفیر مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہے تھے لیکن بدقسمتی سے 2018 میں مخصوص مفادات کی خاطر اس ترقی کو روک دیا گیا۔انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے وژن 2010 اور وژن 2025 کا بھی ذکر کیا جس کے نتیجے میں عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پیش گوئی کی تھی کہ 2030 تک پاکستان دنیا کی 20 بڑی معیشتوں میں شامل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ معیشت اور کاروبار میں جذبات بیلنس شیٹ سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ کئی کمپنیاں اوسط بیلنس شیٹ کے باوجود ترقی کرتی ہیں کیونکہ ان کے بارے میں مثبت تاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2017 میں پاکستان نے ایک مثبت تاثر پیدا کر لیا تھا لیکن جبری تبدیلی نے سب کچھ بدل دیا۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=566508