اقوام متحدہ ۔27فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کی سکیورٹی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے سربراہ فلپ لازارینی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عہدیداروں نے جمعرات کو خبردار کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں رواں ہفتوں کے اسرائیلی فوجی چھاپوں نے فلسطین کے مغربی کنارے کو میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ہے جس کے باعث 40 ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ اسرائیلی فوجیوں نے 20 سالوں میں پہلی بار پناہ گزینوں کے کیمپوں میں بلڈوزر کا استعمال کیا جس سے عوامی خدمات بشمول بجلی اور پانی کے اہم نیٹ ورکس کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
فلپ لازارینی نے کہا کہ فلسطین کے لوگوں میں خوف اور بے یقینی ایک بار پھر غالب آ گیا ہے، متاثرہ کیمپ کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے ہیں ۔اقوام متحدہ کی ایجنسی نے کہا کہ پانچ ہفتے قبل اسرائیلی فوجی چھاپے شروع ہونے کے بعد سے اب تک بچوں سمیت 50 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مغربی کنارہ میدان جنگ بنتا جا رہا ہےجہاں عام فلسطینی پہلے سے زیادہ نقصان اٹھا رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ کاری کے دفتر (او سی ایچ اے) نے بھی اسرائیلی فوج کی طرف سے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی برادریوں کے خلاف استعمال کئے جانے والے مہلک جنگی ہتھکنڈوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے آپریشن سے پہلے ہی فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ ایجنسی نے مزید کہاکہ اقوام متحدہ کے شراکت دار بڑھتے ہوئے ان چیلنجوں کے باوجود لوگوں کی امداد کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے مطابق اس نے جنوری میں ایک لاکھ 90 ہزارلوگوں تک نقد امدادفراہم کی ہے ۔ غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے، او سی ایچ اے نے کہا کہ حالیہ دنوں میں غزہ میں چھ بچے شدید سردی کی وجہ سے جاں بحق ہوئے ہیں، جس سے سردیوں کی وجہ سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 15 ہو گئی ہے۔اوسی ایچ اے نے بتایا کہ منگل کو 800 سے زائد ٹرک غزہ کی پٹی میں داخل ہوئے۔ 19 جنوری کو جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے ان تک ڈبلیو ایف پی نے غزہ میں30ہزار ٹن سے زائد خوراک پہنچائی ہے۔
غزہ میں اقوام متحدہ کی ایجنسی کے تعاون سے 60 سے زیادہ کچن نے تقریباً 10 ملین کھانے تقسیم کئے ہیں، جن میں شمالی غزہ اور جنوب میں رفح شامل ہیں۔غزہ میں امداد فراہم کرنے والا سب سے بڑا ادارہ انرواجنگ بندی کے آغاز سے لے کر اب تک تقریباً 1.3 ملین لوگوں تک آٹا اور تقریباً 20 لاکھ لوگوں تک خوراک پہنچا چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) نے بھی اطلاع دی ہے کہ اس نے جنگ بندی کے بعد پہلی بار شمالی غزہ میں جانوروں کا چارہ پہنچایا ہے۔
جنگ بندی کے آغاز اور 21 فروری تک ایف اے اوتقریباً 2,300 خاندانوں میں غزہ کی پٹی میں 570 میٹرک ٹن سے زائد جانوروں کا چارہ تقسیم کیا۔ اوسی ایچ اے نے مزید بتایا کہ تعلیم میں کام کرنے والے امدادی شراکت داروں نے رفح، خان یونس اور دیر البلاح میں اضافی اسکولوں کی نشاندہی کی ہے جو بے گھر لوگوں کے لیے پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ اس نے کہا کہ ان اسکولوں کا دوبارہ کھولنے کے لیے ان کا جائزہ لیا جائے گا اور ان کی مرمت کی جائے گی۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=567025