پاکستان کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے غزہ میں اسرائیلی جارحیت فوری رکوانے کا مطالبہ

اقوام متحدہ ۔29مئی (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ غزہ سےبلند ہونے والی چیخوں پر خاموش نہیں رہا جاسکتا اور دنیا اس حوالے سے اقدامات میں ایک دن کی بھی تاخیر کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے کہاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جون میں اسرائیل فلسطین تنازعہ کے دو ریاستی حل پر ایک …

اقوام متحدہ ۔29مئی (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ غزہ سےبلند ہونے والی چیخوں پر خاموش نہیں رہا جاسکتا اور دنیا اس حوالے سے اقدامات میں ایک دن کی بھی تاخیر کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے کہاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جون میں اسرائیل فلسطین تنازعہ کے دو ریاستی حل پر ایک کانفرنس کا انعقاد کرے گی ،سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے قتل عام ، ان کو معذور بنانے اور ان کو قحط میں مبتلا کرنے پر خاموش تما شائی بن کر نہیں رہ سکتی۔

سلامتی کونسل میں فلسطین کی صورتحال پر بحث کے دوران پاکستان کے مندوب نے کہا کہ تاریخ فلسطین کے حوالے سے ہمیں ہماری ذمہ داریوں کی عدم ادائیگی پر کبھی معاف نہیں کرے گی۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ غزہ کے حوالےسے فوری مطالبات بہت واضح ہیں جن میں جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی، انسانی بنیادوں پر کارروائی اور معصوم شہریوں کا تحفظ شامل ہے جسے ہر حال میں ممکن بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کونسل کے تمام اراکین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اکٹھے ہو کر ایک قرارداد کے ذریعے فوری طور پرمسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور دیرپا تصفیے کے لئے جون کی کانفرنس کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد کریں۔ انہو ں نے کہاکہ فلسطینی عوام کے ساتھ خوفناک حد تک بہت برا ہوچکا ہے اور اس سب کے ذمہ داروں کے استثنا کا وقت ختم ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کے موجودہ حالات کے پیش نظر تشویش کے الفاظ ناکافی ہیں اور اس حوالےسے کونسل کو درست سمت میں کام کرنے کی ضرورت ہے جس میں واضح کیا جائے کہ اخلاقی اور قانونی طور پراقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت غزہ میں مزید کتنے مظالم کا ارتکاب ہونا چاہیے جس کے بعد سلامتی کونسل اس پر کوئی کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب غزہ میں نسل کشی روکنے کے حوا لے سے فوری اقدامات کر نے کا وقت آگیا ہے جس میں تاخیر ناقابل برداشت ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں اسرائیلی مظالم کو معمول نہیں بننے دینا چاہیے کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون اور انسانی وقار کی توہین ہوگی۔انہوں نے کہا کہ فلسطین میں پھیلتا ہوا بحران انسانی ساختہ تباہی ہے جو اسرائیل کی طویل ناکہ بندی، اندھا دھند بمباری اور شہریوں پر حملوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے، جس میں 54ہزارفلسطینی جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، شہید اور ایک لاکھ 22ہزار سےزیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستانی سفیر نے غزہ کے لوگوں کو پہنچنے والے تکالیف کو پیمائش سے ماورا، تصور سے باہر قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ اسرائیلی جارحیت کے باعث 57بچے بھوک سے شہید ہو چکے ہیں اور غزہ میں بھوک اب ایک خطرہ نہیں بلکہ ایک سنگین حقیقت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں کے باعث غزہ میں پانی، بجلی اور مواصلاتی نیٹ ورک کو بڑے پیمانے پر نقصان کے ساتھ 80 فیصد سے زیادہ گھر تباہ ہو گئے ہیں اور یہ اسرائیل نے جان بوجھ کر کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ 28ہزار سے زائد خواتین اور لڑکیا ں اپنی زندگی کھو بیٹی ہیں اور 50 ہزار حاملہ خواتین میں ہزاروں کے ہاں انتہائی غیر محفوظ حالات میں بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔پاکستانی مندوب نے غزہ میں بڑھتے ہوئے تشدد، گھروں کو مسمار کرنے اور نقل و حرکت پر پابندیوں کے ساتھ مغربی کنارے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی۔

انہوں نے اسرائیلی حکام کے مسجد اقصیٰ کے "اشتعال انگیز” دوروں کی مذمت کرتے ہوئےممکنہ علاقائی کشیدگی کا انتباہ دیا۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرے جن میں قرارداد 2735 پر مکمل عمل درآمد اور شہریوں پر تمام حملوں کو روکنا، انسانی ہمدردی کی ٹیموں کے لیے بلا روک ٹوک رسائی اور امداد کی ترسیل پر تمام پابندیوں کو فوری طور پر ہٹانا، فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے زبردستی بے گھر کرنے کی کسی بھی کوشش کی مذمت دو ریاستی حل پر مبنی منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے کام کرنا شامل ہے ۔انہوں نے کہاکہ غزہ کا بحران ہمارے دور کے سنگین ترین انسانی بحرانوں میں سے ایک ہے۔واضح رہے 193 رکنی اسمبلی کی یہ کانفرنس 17 سے 20 جون تک نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوگی جس کی صدارت سعودی عرب اور فرانس مشترکہ طور پر کریں گے۔

مزید خبریں