بیجنگ۔14جولائی (اے پی پی):چین اور امریکا کے درمیان رواں کیلنڈر سال کی پہلی ششماہی کے دوران باہمی تجارت میں 9.3 فیصد کمی ہو ئی ہے۔ چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک ( سی جی ٹی این ) کی رپورٹ کے مطابق چین کی اسٹیٹ کونسل کے انفارمیشن آفس کی پریس کانفرنس میں چین کے محکمہ کسٹمز کی جانب سے گزشتہ چھ ماہ کے دوران چین اور امریکا کے درمیان تجارت …
چین اور امریکا کے درمیان تجارت میں چھ ماہ کے دوران 9.3 فیصد کمی

مزید خبریں
بیجنگ۔14جولائی (اے پی پی):چین اور امریکا کے درمیان رواں کیلنڈر سال کی پہلی ششماہی کے دوران باہمی تجارت میں 9.3 فیصد کمی ہو ئی ہے۔ چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک ( سی جی ٹی این ) کی رپورٹ کے مطابق چین کی اسٹیٹ کونسل کے انفارمیشن آفس کی پریس کانفرنس میں چین کے محکمہ کسٹمز کی جانب سے گزشتہ چھ ماہ کے دوران چین اور امریکا کے درمیان تجارت کی صورتحال بارے آگاہ کیا گیا۔
محکمہ کسٹمز کے ڈپٹی ڈائریکٹر وانگ لنگ جون نے کہا کہ رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا کل حجم 2.08 ٹریلین یوآن رہا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9.3 فیصد کم ہے۔ اس مدت کے دوران امریکا کو چینی برآمدات کا حجم 1.55 ٹریلین یوآن رہا جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے 9.9 فیصد کم ہے۔ چین کی طرف سے امریکی درآمدات کا حجم 530.35 ارب یوآن رہا جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 7.7 فیصد کم ہے ۔
امریکا کے "ریسیپروکل ٹیرف ” کے اثرات کی وجہ سے، چین۔امریکا تجارت رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر اضافے کے بعد دوسری سہ ماہی میں کمی کا شکار ہوئی جس کی شرح 20.8 فیصد رہی۔حالیہ دنوں دونوں ممالک کے درمیان جنیوا اور لندن میں ہونے والے اقتصادی اور تجارتی مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جس کے بعد چین۔امریکا تجارت میں کچھ بہتری آئی ہے۔ اس وقت چین اور امر یکا کی ٹیمیں لندن فریم ورک کے تحت حاصل کردہ نتائج کو عملی شکل دینے میں مصروف ہیں۔








