اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و مواصلات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ کارٹلائزیشن، انسائیڈر ٹریڈنگ اور غیر منصفانہ تجارتی رویے پاکستان کی معیشت کے لیے خطرہ ہیں اور ان کے تدارک کے لیے حکومت مکمل طور پر پرعزم ہے۔پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی پی سی) کی موجودہ مینجمنٹ جو اگست 2023ء میں تعینات کی گئی، …
کمپٹیشن کمیشن کی مینجمنٹ نے کارکردگی بہتر بنانے کے لئے جامع اصلاحات کی ہیں ،وفاقی وزیر خزانہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و مواصلات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ کارٹلائزیشن، انسائیڈر ٹریڈنگ اور غیر منصفانہ تجارتی رویے پاکستان کی معیشت کے لیے خطرہ ہیں اور ان کے تدارک کے لیے حکومت مکمل طور پر پرعزم ہے۔پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی پی سی) کی موجودہ مینجمنٹ جو اگست 2023ء میں تعینات کی گئی، نے کمیشن کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے جامع اصلاحات کی ہیں۔
وزیر خزانہ نے سینیٹ کو آگاہ کیا کہ سی سی پی نے 567 عدالتی کیسز میں سے 50 فیصد سے زائد نمٹا دیئے ہیں، 11 بڑے انفورسمنٹ آرڈرز جاری کیے جا چکے ہیں، اگست 2023ء سے اب تک 180 ملین روپے کی ریکوری کی گئی ہے، ایک مارکیٹ انٹیلیجنس یونٹ اور سینٹر آف کمپٹیشن ریسرچ قائم کیا گیا ہے جو ڈیٹا ڈرون اور اے آئی ماڈلز کے ذریعے مارکیٹ کے پیٹرنز اور اینٹی-کمپیٹیٹو سرگرمیوں کی نگرانی کر رہا ہے۔
وزیر نے مزید بتایا کہ سی سی پی نے اب شکایات کا انتظار نہیں کرتا بلکہ خود سے تجزیہ کر کے 28 مختلف شعبوں میں 170 ممکنہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کر چکا ہے جن میں ریئل اسٹیٹ، ٹیلی کام، بینکنگ اور ای-کامرس شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ 17 مرجرز اینڈ ایکوزیشن کیسز نمٹائے گئے، 83 ریگولیٹری ایکزمپشنز دی گئیں، خاص طور پر فارماسیوٹیکل، انرجی اور بینکنگ شعبوں میں۔
سینیٹر اورنگزیب نے افراط زر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے سال افراط زر 38 فیصد تھا جو اب نمایاں کمی کے بعد نیچے آیا ہے، پالیسی ریٹ میں کمی اور ماہانہ مہنگائی کی شرح میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ای سی سی اور نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (جس کی سربراہی احسن اقبال کر رہے ہیں) قیمتوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
وفاقی وزیر نے سابقہ حکومتوں کی جانب سے بنائی گئی کمیٹیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کمیٹیوں کا موثر فالو اپ کیا جاتا تو آج حالات مختلف ہوتے، موجودہ حکومت ان تمام اقدامات کو شفافیت اور مضبوط ادارہ جاتی میکانزم کے ذریعے آگے بڑھا رہی ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ سی سی پی کے چیئرمین کو سینیٹ کی فنانس کمیٹی میں بلایا جائے تاکہ وہ ادارے کی کارکردگی اور آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔








