اسلام آباد۔23جولائی (اے پی پی):قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین جنید اکبر خان کی زیر صدارت ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں فنانس ڈویژن کے 2023.24 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ۔ سیکرٹری نیشنل فوڈ سکیورٹی نے چینی کی قیمتوں کے حوالے سے بریفنگ دی جس میں انہوں نے …
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، فنانس ڈویژن کے 24-2023 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔23جولائی (اے پی پی):قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین جنید اکبر خان کی زیر صدارت ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں فنانس ڈویژن کے 2023.24 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ۔
سیکرٹری نیشنل فوڈ سکیورٹی نے چینی کی قیمتوں کے حوالے سے بریفنگ دی جس میں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں چینی کی پیداوار رواں سال کم ہوئی ہے ، ملک میں گنے کی پیداوار موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کم ہوئی، پیداوار اور لاگت میں تقریباً 7 ہزار ٹن کا فرق ہے ، چینی کی قیمتوں میں ایک دم اضافہ ہوا ، ڈیمانڈ اور سپلائی کے فرق کو مد نظر رکھتے ہوئے 3 لاکھ میٹرک ٹن درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ چینی ایکسپورٹ کرنے اور بعد میں درآمد کرنے کا فیصلہ کس کا ہے ۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ہم نے کابینہ کے احکامات کے تحت 4 ٹیکسوں میں کمی کی۔ ارکان کا کہنا تھا کہ کس نے کن وجوہات کی بنا پر کابینہ کمیٹی سے منظوری حاصل کی ۔
سید نوید قمر نے کہا کہ چینی زیادہ ہو تو باہر بھجوانے اور اگر کم ہو تو درآمد کرنے میں کوئی حرج نہیں ہوتا تاہم صرف چند لوگوں کی اجارہ داری قائم کرکے چینی کی قیمتوں کا تعین کرنا درست نہیں ہے ۔ جنید اکبر خان نے کہا کہ اس طرز عمل کی وجہ سے گنے کا کاشتکار بھی متاثر ہوتا ہے ۔ سید نوید قمر نے کہا کہ اس میں اصل کردار صوبائی حکومتوں کا بنتا ہے ، یہ معاملہ وفاقی وزارتوں کے کنٹرول سے باہر ہے ۔ چیئرمین پی اے سی نے چیئرمین ایف بی آر سے چینی برآمد کرنے والوں کی تفصیلات طلب کر لیں ۔
سید نوید قمر نے کہا کہ حکومت کو فری مارکیٹ کا ماحول فراہم کرنا چاہئے ، بیوروکریٹ مارکیٹ نہیں چلا سکتا ۔ اس کا کس کو کیا فائدہ ہوا اس کو دیکھنا چاہیے۔ چیئر مین پی اے سی نے اس معاملہ کو آئندہ ہفتہ تک موخر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ مکمل تیاری کے ساتھ آئیں اور پی اے سی کی طلب کردہ تمام تفصیلات بھی فراہم کریں ۔








