اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ نان فائلرز کی کیٹگری کو آہستہ آہستہ ختم کر دیا جائے گا،تاجر دوست سکیم کے تحت 2 لاکھ 80 ہزار سے زائد ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوئے، حکومت نے افراط زر کی شرح پر قابو پایا ہے اوراس میں ریکارڈ کمی لائے ہیں،ٹیکس دہندگان کا بنیادی حق ہے کہ انہیں ہر طرح کی سہولت فراہم کی جائے اور انہیں پریشان نہ کیا …
نان فائلرز کی کیٹگری کو آہستہ آہستہ ختم کر دیا جائے گا، ایف بی آر کے معاملات کو شفاف بنانے کے لیے ڈیجیٹائزیشن ہو رہی ہے، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی

مزید خبریں
اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ نان فائلرز کی کیٹگری کو آہستہ آہستہ ختم کر دیا جائے گا،تاجر دوست سکیم کے تحت 2 لاکھ 80 ہزار سے زائد ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوئے، حکومت نے افراط زر کی شرح پر قابو پایا ہے اوراس میں ریکارڈ کمی لائے ہیں،ٹیکس دہندگان کا بنیادی حق ہے کہ انہیں ہر طرح کی سہولت فراہم کی جائے اور انہیں پریشان نہ کیا جائے،ٹیکس نادہندگان سے ٹیکس وصول کرنے کے لیے جو بھی طریقہ کار ہے وہ اختیار کیا جائے گا،ایف بی آر کے معاملات کو شفاف بنانے کے لیے ڈیجیٹائزیشن ہو رہی ہے۔
جمعرات کو بھی ایوان بالا کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر شہادت اعوان، محسن عزیز ،ذیشان خانزادہ ،مسرور احسن،دنیش کمار اور عبدالقادر کے سوالات کے جواب میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے ایوان کو بتایا کہ ایف بی آر کے لاہور کے ویئر ہائوس سے سامان قیمتی سامان کے چوری ہونے کے دو مقدمات درج کیے گئے تھے اور ایف آئی اے ان کی تحقیقات کر رہی ہے ایف بی آر ان مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کر رہی ہے اور ایف آئی اے کے ساتھ رابطے میں ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ نان فائلر کی کیٹگری نہیں ہونی چاہیئے لیکن زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے معیشت کو بہتر بنانے کے لیے ہم نے آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کا موقف ہے کہ اصلاحات مرحلہ وار ہونی چاہئیں،نان فائلرز کے لیے مختلف سزائیں ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ ٹیکس کا دائرہ بڑھائیں گے اور مزید اقدامات بھی اس حوالے سے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے ساتھ بھی اس حوالے سے جو چیزیں طے کی گئی تھیں ان پر ہم نے پیشرفت کی ہے،
نان فائلرز کو فائلرز بنایا جائے گا اور نان فائلرز کی کیٹگری کو آہستہ آہستہ ختم کر دیا جائے گا،تاجر دوست سکیم کے تحت 2 لاکھ 80 ہزار 197 سے زائد ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوئے ہیں اور مجموعی طور پر رجسٹرڈ ریٹیلرز کی تعداد 10 لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔ریٹیلرز سے 189 ارب روپے سے 600 ارب روپے کی ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوا ہے، یہ ابھی بھی کم ہے اس میں مزید اضافہ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے افراط زر کی شرح پر قابو پایا ہے اور اس سال اس میں ریکارڈ کمی لائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ٹیکس دہندہ کا بنیادی حق ہے کہ اسے ہر طرح کی سہولت فراہم کی جائے اور اسے پریشان نہ کیا جائے،ٹیکس دہندگان کے لیے بنائے جانے فارم میں بھی آسانیاں پیدا کی گئی ہیں،ٹیکس نادہندگان سے ٹیکس ہر صورت میں وصول کیا جائے گا، اس کے لیے جو بھی طریقہ کار موجود ہے اس پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 364 ارب روپے کا سیلزٹیکس ریفنڈ واپس کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے معاملات کو شفاف بنانے کے لیے ڈیجیٹائزیشن ہو رہی ہے اور انسانی عمل دخل آہستہ آہستہ ختم کیا جا رہا ہے۔








