اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ نیپرا کی جانب سے دیئے گئے حالیہ فیصلے پر حکومت نے بروقت ریویو پٹیشن دائر کی ہے تاکہ صارفین کو غیر ضروری مالی بوجھ سے بچایا جا سکے۔جمعرات کو ایوان بالا کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیپرا کے فیصلے کے بعد حکومت کے پاس صرف دس دن ہوتے …
نیپرا کی جانب سے دیئے گئے حالیہ فیصلے پر حکومت نے بروقت ریویو پٹیشن دائر کی ہے ، سردار اویس احمد خان لغاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ نیپرا کی جانب سے دیئے گئے حالیہ فیصلے پر حکومت نے بروقت ریویو پٹیشن دائر کی ہے تاکہ صارفین کو غیر ضروری مالی بوجھ سے بچایا جا سکے۔جمعرات کو ایوان بالا کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیپرا کے فیصلے کے بعد حکومت کے پاس صرف دس دن ہوتے ہیں ریویو فائل کرنے کے لیے، ہم نے پہلی بار مکمل تکنیکی بنیاد پر ٹیرف کی تفصیلات کا جائزہ لیا اور متعدد اعتراضات کے ساتھ ریویو فائل کیا۔انہوں نے کہا کہ لائن لاسز کی حد سے زیادہ منظوری (13.9 فیصد) جبکہ زمینی حقائق کے مطابق یہ 8-9 فیصد ہونی چاہیے، ریکوری کے نقصان کا بوجھ صارفین پر ڈالنا جو کہ ناجائز ہے، ورکنگ کیپیٹل کی لاگت کی غیر حقیقی تشخیص،ریٹرن آن ایکویٹی (منافع) کے حسابات پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر یہ فیصلہ چیلنج نہ کیا جاتا تو اگلے سات سال میں کراچی الیکٹرک کو 650 ارب روپے سےزائد دیئے جاتے جس کا بوجھ پورے ملک کے صارفین پر پڑتا۔سردار اویس لغاری نے کہا کہ پہلی بار حکومت نے ٹیرف کے حوالے سے عوامی مفاد میں اتنا مضبوط موقف اپنایا ہے جس کا مقصد صارفین اور قومی خزانے کو غیر ضروری بوجھ سے بچانا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مالی سال 2024-25 میں حکومت نے 191 ارب روپے کے نقصانات کم کیے، 100 ارب روپے صارفین کو اوور بلنگ کی مد میں واپس کیے گئے۔کراچی الیکٹرک کو دی جانے والی ٹیرف سبسڈی گزشتہ مالی سال میں 155 ارب روپے رہی۔وفاقی وزیر نے یہ بھی واضح کیا کہ ابھی تک آڈیٹر جنرل کی رپورٹ جاری نہیں ہوئی، اس لیے کسی بھی حتمی تبصرے کے لیے رپورٹ کا انتظار کیا جائے۔انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ جیسے ہی رپورٹ آئے گی وہ اس پر تفصیل سے جواب دینے کے لیے حاضر ہوں گے۔سردار اویس لغاری نے کہا کہ شہباز شریف حکومت نے پہلی مرتبہ کراچی الیکٹرک کی ایم وائی ٹی کے خلاف موثر قانونی کارروائی کی ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کے اربوں روپے بچائے جا سکیں، اس اقدام سے مستقبل میں بجلی کی تقسیم اور قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی بڑھے گی۔








