ایف سی سے متعلق حالیہ آرڈیننس کا مقصد فورس کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اسے تسلیم کرنا، مستحکم بنانا اور دوسری سکیورٹی فورسز کے برابر لانا ہے، سینیٹر طلال چوہدری

اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہاہے کہ ایف سی سے متعلق حالیہ آرڈیننس کا مقصد فورس کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اسے تسلیم کرنا، مستحکم بنانا اور دوسری سکیورٹی فورسز کے برابر لانا ہے۔جمعرات کو ایوان بالا کے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ ایمل ولی خان اور دیگر سینیٹرز کے تحفظات غلط فہمی یا ہماری وضاحت نہ پہنچنے کی وجہ سے سامنے …

اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہاہے کہ ایف سی سے متعلق حالیہ آرڈیننس کا مقصد فورس کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اسے تسلیم کرنا، مستحکم بنانا اور دوسری سکیورٹی فورسز کے برابر لانا ہے۔جمعرات کو ایوان بالا کے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ ایمل ولی خان اور دیگر سینیٹرز کے تحفظات غلط فہمی یا ہماری وضاحت نہ پہنچنے کی وجہ سے سامنے آئے، حقیقت یہ ہے کہ ایف سی کی ساخت، قبائلی شناخت اور بھرتی کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ایف سی 1913 سے قائم ہے اور پاکستان کے قیام کے بعد سے وفاقی قانون نافذ کرنے والی فورس کے طور پر کام کر رہی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ، وی آئی پی سکیورٹی اور سرحدی تحفظ میں اس کا کردار نمایاں ہے۔سینیٹر طلال چوہدری نے واضح کیا کہ ایف سی کی موجودہ 512 پلٹونز اور 24 ہزار اہلکار بدستور قبائلی علاقوں اور روایتی قبائل سے ہی بھرتی ہوں گے۔بھرتی کا طریقہ، علاقائی کوٹہ اور قبائلی تناسب میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ایف سی اہلکاروں کو اب دیگر سکیورٹی فورسز کے مساوی سروس سٹرکچر، تنخواہیں، شہداء پیکیج اور پروموشن مواقع دیئے جائیں گے، یہ ایک تاریخی اعتراف ہے اس فورس کے کردار کا جو اس نے پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 3,900 نئی بھرتیوں پر مشتمل ایک علیحدہ "ریزرو ڈویژن” تشکیل دی جا رہی ہے جو جدید تقاضوں جیسے سرمایہ کاری کے تحفظ، حساس تنصیبات، اور ایمرجنسی حالات میں معاون ہوگی۔یہ ریزرو فورس اصل ایف سی ڈھانچے (24 ہزار اہلکار) سے مکمل طور پر علیحدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ ایف سی کو فیڈرل پولیس میں بدلا جا رہا ہے، سراسر غلط فہمی ہے۔ ایف سی، ایف سی ہی رہے گی ، اس کا کردار اور ساخت برقرار ہے۔سینیٹر طلال چوہدری نے زور دیا کہ ایف سی ایک قومی فورس ہے، اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر اس کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فورس کسی ایک جماعت کی نہیں، پوری قوم کی ہے۔ اگر کسی کو تحفظات ہیں تو ہم دروازے کھلے رکھتے ہیں

بات کرنے اور دور کرنے کو تیار ہیں۔انہوں نےکہا کہ یہ اصلاحات ایف سی کو ایک باوقار، فعال اور متحرک فورس بنانے کی جانب عملی قدم ہے جس کا حقدار یہ ادارہ برسوں سے تھا۔

مزید خبریں