اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):گلگت بلتستان کے حالیہ بارشوں اور سلائیڈنگ سے متاثرہ مقامات پر این ایچ اے کی ٹیمیں گزشتہ تین دن سے امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں، جہاں موسم اجازت دے رہا ہے وہاں این ایچ اے کی ٹیمیں رات کے اوقات میں بھی سرگرم عمل ہیں۔ این ایچ اے کی طرف سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق بھرپور کوششوں کی وجہ سے این ایچ اے …
این ایچ اے کی ٹیمیں گلگت بلتستان کے حالیہ بارشوں اور سلائیڈنگ سے متاثرہ مقامات پر گزشتہ تین دن سے امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں، این ایچ اے

مزید خبریں
اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):گلگت بلتستان کے حالیہ بارشوں اور سلائیڈنگ سے متاثرہ مقامات پر این ایچ اے کی ٹیمیں گزشتہ تین دن سے امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں، جہاں موسم اجازت دے رہا ہے وہاں این ایچ اے کی ٹیمیں رات کے اوقات میں بھی سرگرم عمل ہیں۔ این ایچ اے کی طرف سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق بھرپور کوششوں کی وجہ سے این ایچ اے کی ٹیمیں کثیر تعداد میں بارشوں اور سلائڈنگ سے بند مقامات کھولنے میں کامیاب ہو چکی ہیں جبکہ آخری رکاوٹ دور ہونے تک این ایچ اے کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ جمعرات کے روز این ایچ اے کے عملے نے گلگت بلتستان میں خراب موسم کے باوجود اپنی امدادی کاروائیاں جاری رکھیں اورچلاس جانے والی شاہراہ کو کلیئر کر دیا۔ چلاس سائیڈ والی مذکورہ شاہراہ اب ٹریفک کے لیے کھلی ہے این ایچ اے کے عملے نے جلکھڈ 161 کلو میٹر کے مقام پر بند شاہراہ کو بھی سلائیڈنگ سے کلیئر کرکے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے ۔
جمعرات کو ہی این ایچ اے کے عملے نے شدید بارشوں اور سلائیڈنگ کے باعث بہ جانے والے لوشی پل کو بھی عارضی طور پر تیار کر کے ٹریفک کے لیے کھول دیا جس کی وجہ سے شاہراہ پر آمدورفت جاری ہے۔گزشتہ روز تتہ پانی کے مقام پر سلائیڈنگ سے متاثرہ شاہراہ کو دوبارہ کلیئر کر دیا گیا۔تتہ پانی کے مقام پر شاہراہ کو دو دن پہلے بھی این ایچ اے کی ٹیموں نے کلیئر کیا تھا۔ دوبارہ سلائیڈنگ کی وجہ سے شاہراہ تتہ پانی کے مقام پر دوبارہ بند ہوگئی تھی۔ لوشی پل سے ناران تک شاہراہ کو این ایچ اے کی ٹیموں نے کلیئر کر دیا۔ چلاس مین بازار کو این ایچ اے کی ٹیموں نے کلیئر کر دیا ہے۔ لوٹھیاں سے لوشی پل کے درمیان شاہراہ کو کلیئر کردیا گیا ہے۔ سلائیڈنگ سے متاثرہ لوشی پل کے مقام پر ٹریفک کی بحالی کیلئے بھی این ایچ اے نے کام شروع کردیا ہے۔ لوشی پل کے مقام پر ٹریفک کی وقتی بحالی کیلئے درکار میٹیریل پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔
لوشی پل پر ٹریفک کی بحالی کے اقدامات کو کم از کم وقت میں یقینی بنایا گیا ہے ۔ بابوسر بازار کو این ایچ اے کی ٹیموں نے کلیئر کردیا اور بابو سر ٹاپ سےچلاس جانیوالی شاہراہ کو کلیئر کردیا۔ این ایچ اے کی ٹیموں نے گزشتہ روز جگلوٹ سکردو روڈ بھی کلیئر کردیا تھا۔ منگل کو قراقرم ہائی وے کو این ایچ اے کی ٹیموں نے مختلف جگہوں سے ٹریفک کے لیے کھول دیا تھا جبکہ چلاس بازار کے قریب قراقرم ہائی وے کوبھی ٹر یفک کیلئے کھول دیا گیا ہے۔ چلاس زیرو پوائنٹ پر بھی قراقرم ہائی وے کو ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔ پسو کے مقام پر بھی قراقرم ہائی وے کو یکطرفہ ٹریفک کے لیے کھولا گیا ہے۔ تتہ پانی کے قریب قراقرم ہائی وے کو کھول دیا گیا۔ جھلکھڈ کے مقام پر بھی شاہراہ کو یکطرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے ۔ این ایچ اے کی ٹیمیں رات بھر آپریشن میں مصروف رہیں۔منگل کے روز قراقرم ہائی وے جلی پور سے گنڈلاؤ تک لینڈ سلائیڈنگ سے کلیئر کروا لی گئی ۔
جلی پور سے گنڈلاؤ تک شاہراہ دو طرفہ ٹریفک کے لیے کھول دی گئی۔ تھلیسی اور چلاس کے تمام مقامات بھی لینڈ سلائیڈنگ سے کلیئر کر دیئے گئے۔ تھلیسی اور چلاس کے مقامات پر ٹریفک کا یکطرفہ بہاؤ شروع ہو گیا ہے۔ بہسل کے قریب این ۔ 15 کو بھی لینڈ سلائیڈنگ سے کلیئر کر دیا گیا ہے۔ این ایچ اے کی ٹیموں نے جگلوٹ سکردو روڈ بھی کلیئر کردیا اور جگلوٹ اسکردو روڈ دو طرفہ ٹریفک کیلئے کھول دیا۔ روڈ کلیئرنس کے کام کیلئے بھاری مشینری اور افرادی قوت کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ باقی مقامات پر بند شاہراہیں کھولنے تک این ایچ اے کا کلئیرنس آپریشن جاری رہے گا۔ این ایچ اے ہیڈکوارٹرز میں قائم کنٹرول روم سے تمام سرگرمیوں کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ چیئرمن این ایچ اے تمام عمل کی بذات خود نگرانی کر رہے ہیں۔








