اسلام آباد۔31جولائی (اے پی پی):وزارتِ انسانی حقوق کے زیر اہتمام قومی ٹاسک فورس برائے انسانی حقوق کا آٹھواں اجلاس جمعرات کو یہاں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس موقع پر سیکرٹری انسانی حقوق عبدالخالق شیخ بھی موجود تھے۔ اجلاس میں قانون، داخلہ، خارجہ، خواتین ترقی، اور پولیس سمیت وفاقی و صوبائی محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔وفاقی وزیر نے تمام صوبوں میں ضلعی انسانی حقوق کمیٹیوں کو فعال بنانے اور خواتین، بچوں اور اقلیتوں جیسے کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے بہترین عملی مثالوں کے تبادلے پر زور دیا۔
اجلاس میں انسانی حقوق کے ایکشن پلان (2016، نظرثانی شدہ 2020) پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری وزارت نے بلوچستان و خیبرپختونخوا میں معاہداتی سیلز کو مضبوط بنانے اور صوبائی ٹاسک فورسز کی بحالی پر زور دیا۔صوبوں پر زور دیا گیا کہ وہ کم عمری کی شادی کی روک تھام سے متعلق قانون سازی میں تیزی لائیں، اور صوبائی کمیشن برائے خواتین کی تقرریاں 30 دن کے اندر مکمل کریں۔ وفاقی شرعی عدالت کا 2023 کا فیصلہ بھی متعلقہ اداروں کو ارسال کرنے کی ہدایت دی گئی۔اجلاس میں وفاقی و صوبائی سیکرٹریز پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی جو صنفی برابری کی عالمی رپورٹ میں پاکستان کی درجہ بندی بہتر بنانے کے لیے سفارشات پیش کرے گی ۔اجلاس کا اختتام ضلعی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی عزم کے اظہار کے ساتھ ہوا۔