قومی احتساب بیورو میں ایڈم سمتھ انٹرنیشنل اور برطانوی ہائی کمیشن کے تعاون سے اینٹی منی لانڈرنگ، درپیش چیلنجز اور ان کے حل کے موضوع پر اعلیٰ سطحی سیمینار کا انعقاد

اسلام آباد۔6اگست (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب) میں ایڈم سمتھ انٹرنیشنل اور برطانوی ہائی کمیشن کے تعاون سے اینٹی منی لانڈرنگ، درپیش چیلنجز اور ان کے حل کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بطورمہمان خصوصی شرکت کی۔ ترجمان کے مطابق اس کے علاوہ نیب کے سات علاقائی دفاتر کے آفیسرز نے بھی …

اسلام آباد۔6اگست (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب) میں ایڈم سمتھ انٹرنیشنل اور برطانوی ہائی کمیشن کے تعاون سے اینٹی منی لانڈرنگ، درپیش چیلنجز اور ان کے حل کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بطورمہمان خصوصی شرکت کی۔ ترجمان کے مطابق اس کے علاوہ نیب کے سات علاقائی دفاتر کے آفیسرز نے بھی سیمینار میں بذریعہ آن لائن شرکت کی۔سیمینار کا مقصد پاکستان میں ہونے والے مالی جرائم (منی لانڈرنگ) اور ان کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کا جائزہ لینا اور مشترکہ طور پر اس ناسور کے خلاف اپنا لائحہ عمل طے کرنا تھا۔

وفاقی وزیر قانون نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس سیمینار کو موضوع کے اعتبار سے ایک سنگ میل قرار دیا اور یہ کہا کہ ایسے حساس نوعیت کے معاملات میں سب سے بہتر حکمت عملی ایک چھت کے نیچے اکٹھے ہونا، مسائل کو زیر تجویز لانا اور ان کا متفقہ طور پر حل تلاش کرناایک بہترین راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کسی بھی ملک اور اس کی معیشت کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور اگر اس جرم میں ملوث ملزمان سے آہنی ہاتھوں سے نہ نمٹا گیا تو یہ نہ صرف قومی معیشت کو تباہ کرنے بلکہ پاکستان کا چہرہ دنیا کی نظروں میں مسخ کرنے کے مترادف ہو گا۔

وفاقی وزیر نے تمام اداروں پر یہ زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے شائستگی کا مظاہرہ کریں اور پوری کوشش کریں کہ لوگوں کے دلوں میں ان اداروں کا احترام اور اعتماد بڑھے۔ وفاقی وزیر نے تمام قانون ساز اداروں بالخصوص قومی احتساب بیورو کی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کیا۔ تقریب میں ڈی جی راجہ رفعت مختار ، ڈائریکٹر ایف آئی اے سمیرا اعظم، ڈی جی ایف بی آر عقیل احمد صدیقی، ڈی جی میجر جنرل عبدالمعید، ڈائریکٹر اے این ایف اسرار احمد، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی وسیم احمد خان، ڈی جی ایف ایم یو محمد جاوید اسماعیل، چیئرمین اے ایم ایل/سی ایف ٹی مشتاق احمد سکھیرا اور ڈی آئی جی اپ سکیل عمر ریاض چیمہ نے بھی شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف اپنے اداروں کے کام اور کامیابیوں کے حوالے سے حاضرین کو آگاہ کیا بلکہ درپیش چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے حل کی موثر تجاویز پیش کیں۔

انہوں نے مزید یہ کہا کہ تمام ادارے اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ارض پاکستان سے ان جرائم کو ختم کر کے اپنی قومی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے نبھائیں گے۔اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یہ بتایا کہ تمام اداروں کو سیمینار کے ذریعے اکٹھا کرنے کا مقصد ایک دوسرے کی مہارت اور کام کرنے کے طریقے سے نہ صرف استفادہ حاصل کرنا ہے بلکہ غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کو درست بھی کرنا ہے۔

چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد نے شرکا سیمینار کو خوش آمدید کہتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ منی لانڈرنگ سے لڑنے کے لیے مشترکہ کوششوں کے حوالہ سے نیب نے پہلا قدم اٹھایا ہے اور اب تمام اداروں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس قسم کی تقریبات کا وقتاً فوقتاً انعقاد کریں اور ایک دوسرے کی مہارت، تجربہ، کارکردگی اور کامیابیوں سے مستفید ہو کر اپنی اپنی استعداد اور مہارت میں اضافہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کے جرائم سے اسی صورت میں نمٹا جا سکتا ہے کہ جب تمام ادارے اکٹھے ہو کر اپنی ذمہ داریوں کو قومی مفاد میں اچھے انداز سے نبھائیں۔چیئرمین نیب نے وفاقی وزیر قانون کی تقریب میں شرکت پر ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور اِس بات کا یقین دلایا کہ ملکی سلامتی اور نیک نامی کے لیے تمام ادارے مشکلات کے باوجود اپنے فرائض منصبی ادا کرنے میں کوئی کوتاہی نہ برتیں گے۔