پرانے نظام سے فائدہ اٹھانے والے فیس لیس کسٹمز سسٹم کو بدنام کر کے اسے ختم کرانا چاہتے ہیں ، ایف بی آر

اسلام آباد۔7اگست (اے پی پی):پاکستان کسٹمز نے تجارت میں سہولت فراہم کرنے اور بندرگاہوں سے سامان کی کلیئرنس میں انسانی مداخلت کم سے کم کرنے کے لئے اپنے فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم کے دائرہ کار کو بتدریج وسعت دی ہے ۔ دسمبر 2024ء میں شروع ہونے والے اس نظام سے ان افراد کے مفادات کو ضرب لگی ہے جو پرانے نظام سے ناجائز فائدے حاصل کر رہے تھے۔ یہی …

اسلام آباد۔7اگست (اے پی پی):پاکستان کسٹمز نے تجارت میں سہولت فراہم کرنے اور بندرگاہوں سے سامان کی کلیئرنس میں انسانی مداخلت کم سے کم کرنے کے لئے اپنے فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم کے دائرہ کار کو بتدریج وسعت دی ہے ۔ دسمبر 2024ء میں شروع ہونے والے اس نظام سے ان افراد کے مفادات کو ضرب لگی ہے جو پرانے نظام سے ناجائز فائدے حاصل کر رہے تھے۔ یہی عناصر اب فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ کو بدنام کر رہے ہیں تاکہ اس نظام کو ختم کرایا جا سکے ۔ایف بی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بدقسمتی سے قومی ذرائع ابلاغ کے بعض حلقوں نے تحقیق کئے بغیر اس جھوٹے بیانیے کا ساتھ دیا ہے ۔ اس کی ایک مثال حال ہی میں شائع ہونے والی خبر ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم کے تحت بڑی تعداد میں لگژری گاڑیوں کو بہت ہی کم قیمت لگا کر کلیئر کیا گیا ۔خاص طور پر 2023ء ماڈل کی ایک ٹویوٹا لینڈ کروزر کی مثال دی گئی جسے مبینہ طور پر محض 17,635 روپے کی کم قیمت لگا کر فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم میں کلیئر کیا گیا جس سے قومی خزانے کو بہت نقصان پہنچا۔

اس کے برعکس یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ مذکورہ گاڑی کی قیمت 1 کروڑ 5 لاکھ روپے لگائی گئی اور اس پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں 4 کروڑ 72 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم کے تحت کسٹمز کی طرف سے تمام ایسی گاڑیوں کی اصل قیمت لگائی گئی اور قومی خزانے کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔اسی خبر میں ان گاڑیوں کی درآمد کے حوالے سے منی لانڈرنگ کا الزام بھی لگایا گیا جبکہ قواعد کے مطابق یہ گاڑیاں صرف بیرون ملک مقیم پاکستانی ہی گفٹ یا ٹرانسفر آف ریزیڈنس سکیم کے تحت درآمد کر سکتے ہیں۔ ان سکیموں میں پاکستان سے کسی قسم کا زرمبادلہ باہر نہیں بھیجا جاتا۔ مزید برآں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد اسی طرز پر فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم کے رائج ہونے سے پہلے بھی ہوتی رہی ہے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم کی جانچ پڑتال اور آڈٹ جنہیں اکثر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جاتا ہے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو خود کر رہا ہے تاکہ اس نئے نظام میں موجود خامیوں کی بروقت نشاندہی کر کے انہیں دور کیا جا سکے۔