پاکستان کا قیام محض جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ عظیم روحانی، تہذیبی اور سیاسی انقلاب تھا جس کی بنیاد لاکھوں شہیدوں کے لہو سے رکھی گئی، شیخ انوارالحق

لاہور۔8اگست (اے پی پی):تحریکِ پاکستان کے کارکن، سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان، ممتاز قانون دان اور بزرگ شخصیت شیخ انوارالحق نے کہا ہے کہ پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ عظیم روحانی، تہذیبی اور سیاسی انقلاب تھا جس کی بنیاد لاکھوں شہیدوں کے لہو سے رکھی گئی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان کے 78ویں یوم آزادی کے حوالے سے جمعے کو اے پی پی سے …

لاہور۔8اگست (اے پی پی):تحریکِ پاکستان کے کارکن، سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان، ممتاز قانون دان اور بزرگ شخصیت شیخ انوارالحق نے کہا ہے کہ پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ عظیم روحانی، تہذیبی اور سیاسی انقلاب تھا جس کی بنیاد لاکھوں شہیدوں کے لہو سے رکھی گئی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان کے 78ویں یوم آزادی کے حوالے سے جمعے کو اے پی پی سے خصوصی گفتگو میں کیا۔انہوں نے کہا کہ جب وطن کی مٹی قربانیوں کے لہو سے رنگین ہو، جب خوابوں کو تعبیر دینے کے لیے نسلیں اجڑ جائیں، جب ایک قوم اپنی شناخت کے لیے ہر قیمت ادا کرنے پر تیار ہو تب جا کر پاکستان بنتا ہے۔

قیام پاکستان کے وقت اپنی آنکھوں سے دیکھے دل دہلا دینے والے مناظر بیان کرتے ہوئے شیخ انوارالحق نے کہا کہ انہوں نے پاکستان بنتے دیکھا ہے، ہجرت کا درد محسوس کیا ہے، وہ مائیں دیکھی ہیں جو اپنے بچوں کی لاشیں اٹھا رہی تھیں، وہ بزرگ دیکھے ہیں جو اپنی آنکھوں میں بیٹوں کی تصویر لیے لاہور کے ریلوے سٹیشن پر بیٹھے رہ گئے مگر بیٹے نہ آئے۔شیخ انوارالحق نے کہا کہ پاکستان کا مطلب صرف ایک ملک نہیں بلکہ وہ خواب ہے جو علامہ اقبال نے دیکھا اور قائداعظم محمد علی جناح نے اسے عملی صورت دی، یہ وطن صرف زمین کا ٹکڑا نہیں یہ نعمتِ خداوندی ہے، ایک ایسی نعمت جو لاکھوں قربانیوں، آنسوئوں اور صبر کے بعد ہمیں ملی۔ ہجرت کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ جب برصغیر میں ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا تو گلیاں لاشوں سے بھر گئیں،

ٹرین کی بوگیاں خون سے رنگین ہو گئیں اور لاکھوں مسلمان اپنے گھروں، زمینوں اور سب کچھ چھوڑ کر صرف اس امید پر نکل کھڑے ہوئے کہ انہیں ایک ایسی سرزمین ملے گی جہاں وہ آزاد فضا میں سانس لے سکیں، اپنے دین، اپنی اقدار، اپنی زبان اور تہذیب کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی ایک ایک اینٹ میں قربانی کا درد محسوس کیا ہے، افسوس ہے کہ آج کی نسل کو شاید اس وطن کے قیام کی اصل قیمت کا اندازہ نہیں، آج سوشل میڈیا پر چند نعرے لگا کر خود کو محب وطن کہنا آسان ہے مگر اس ملک کے لیے سچائی،

دیانت، انصاف اور قربانی کی راہ اپنانا ہی اصل حب الوطنی ہے۔شیخ انوارالحق نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور بقا صرف اسی صورت ممکن ہے جب ہم سب اپنا کردار خلوصِ نیت سے ادا کریں۔انہوں نے نوجوان نسل سے کہا کہ یہ وقت پاکستان کو سنوارنے، تعلیم عام کرنے، انصاف کی راہ ہموار کرنے، معاشی خودمختاری حاصل کرنے، نفرتیں ختم کر کے محبت، بھائی چارے اور خدمت کو فروغ دینے کا ہے۔

ا ن کا کہنا تھا کہ یومِ آزادی محض جھنڈا لہرانے، قومی ترانے سننے یا تقاریر کرنے کا دن نہیں بلکہ یہ ہمیں اس وعدے کی یاد دہانی کراتا ہے جو ہمارے بزرگوں نے اس دھرتی سے کیا تھا کہ ہم اسے سنواریں گے، اس کی حفاظت کریں گے اور اسے دنیا میں عظیم بنائیں گے۔ شیخ انوارالحق نے کہا کہ ہماری شناخت، ہماری آزادی اور ہماری نسلیں سب کچھ اس سرزمین کے دم سے ہے،

اگر ہم نے آج بھی ہوش نہ سنبھالا اور اس وطن کی قدر نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی، یہ وطن ہمارے ماضی کا فخر، حال کی پہچان اور مستقبل کی امید ہے اس کا خیال رکھنا ہم سب پر فرض ہے۔انہوں نے نوجوانوں، طلبہ، علما، سیاستدانوں، تاجروں اور عام شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آئیے اس یومِ آزادی پر تجدیدِ عہد کریں کہ ہم پاکستان کی ترقی، امن اور وقار کے لیے ہر سطح پر کام کریں گے، ہم تعلیم کو عام کریں گے، قانون کا احترام کریں گے اور ہر شعبہ زندگی میں دیانتداری کو اپنائیں گے۔