لکڑی کے تاجر جنگلات کے فروغ کے لیے کردار ادا کریں، حکومت اس شعبے کو درپیش تجارتی مسائل کے حل کے لیے تعاون کرے گی،وزیر تجارت جام کمال خان

اسلام آباد۔8اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برئے تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ لکڑی کے تاجر جنگلات کے فروغ میں فعال کردار ادا کریں، حکومت اس شعبے کو درپیش اہم تجارتی مسائل کے حل کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعے کو آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا جس کی …

اسلام آباد۔8اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برئے تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ لکڑی کے تاجر جنگلات کے فروغ میں فعال کردار ادا کریں، حکومت اس شعبے کو درپیش اہم تجارتی مسائل کے حل کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعے کو آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا جس کی قیادت چیئرمین محمد شرجیل گوپلانی کر رہے تھے۔وفد نے وزیرِ تجارت کو درپیش اہم مسائل سے آگاہ کیا جن میں بینکنگ سے متعلق رکاوٹیں، اجازت ناموں میں تاخیر، شپمنٹ کے مسائل، دستاویزی کارروائی کی پیچیدگیاں اور ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن سے جڑے مسائل شامل ہیں ۔ چیئرمین محمد شرجیل گوپلانی نے وزیر تجارت کو بتایا کہ پاکستان کی لکڑی کی ملکی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے، امریکا اس وقت سب سے بڑا سپلائر ہے،

اس کے بعد جرمنی، سویڈن، فن لینڈ، فلپائن اور کینیڈا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی صرف 1.9 فیصد زمین پر جنگلات ہیں جو قومی ضروریات کے لیے ناکافی ہیں۔ جام کمال خان نے مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے تمام جائز مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ اجازت ناموں اور دستاویزات سے متعلقہ معاملات کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ وزیر تجارت نے ملک میں جنگلات کے رقبے میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ذمہ داری ہے جسے ہمیں نبھانا ہوگا۔ انہوں نے ایسوسی ایشن پر زور دیا کہ وہ اپنی طویل المدتی حکمتِ عملی میں جنگلات کے فروغ کو بھی شامل کرے۔ وفاقی وزیر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں خصوصاً سیلاب سے متاثرہ اور غیر زرعی زمینوں میں سروے کرائے جائیں تاکہ وہاں شجرکاری کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔

انہوں نے کچھ ایسے علاقوں کی نشاندہی بھی کی جہاں وسیع اراضی غیر استعمال شدہ ہے اور وہاں کینو، سفیدہ اور سبابل (سبروس) جیسے تیزی سے بڑھنے والے درخت لگائے جا سکتے ہیں۔اس موقعے پر وفد کا کہنا تھا کہ لکڑی چونکہ ضروری شے ہے اس لیے اس پر کسٹم ڈیوٹی لاگو نہیں ہوتی جو کہ تعمیراتی اور فرنیچر انڈسٹری کے لیے اہم سہولت ہے۔