پالیسی سازی میں تحقیق اور تربیت کا فروغ، سی سی پی اور پی آئی پی ایس کے درمیان ادارہ جاتی تعاون پر معاہدہ

اسلام آباد۔8اگست (اے پی پی):کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) اور ادارہ برائے پارلیمانی خدمات (پی آئی پی ایس) نے ادارہ جاتی تعاون کے استحکام اور پالیسی سازوں کو تحقیق پر مبنی تجزیہ فراہم کرنے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔مفاہمتی یادداشت پر ممبر کمپٹیشن کمیشن سلمان امین اور پی آئی پی ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عاصم خان گورایہ نے دستخط کئے۔ اس موقع پر …

اسلام آباد۔8اگست (اے پی پی):کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) اور ادارہ برائے پارلیمانی خدمات (پی آئی پی ایس) نے ادارہ جاتی تعاون کے استحکام اور پالیسی سازوں کو تحقیق پر مبنی تجزیہ فراہم کرنے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔مفاہمتی یادداشت پر ممبر کمپٹیشن کمیشن سلمان امین اور پی آئی پی ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عاصم خان گورایہ نے دستخط کئے۔ اس موقع پر کمپٹیشن کمیشن کے ڈائریکٹرز جنرل نعمان لئیق اور ڈاکٹر اکرام الحق کے علاوہ دونوں اداروں کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔ سی سی پی کے مطابق مفاہمتی یادداشت کے تحت ادارہ برائے پارلیمانی خدمات ارکان پارلیمنٹ کے لیے اپنے پروگراموں میں مسابقتی قانون سے متعلق خصوصی کورسز کو شامل کرے گا تاکہ ارکین پارلیمنٹ کو مسابقتی قوانین، صارفین کے تحفظ اور غیر مسابقتی رویوں کے خلاف کمیشن کے اقدامات کے حوالہ سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا جا سکے

جبکہ کمیشن کے نوجوان افسران کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور اس کی قائمہ کمیٹیوں کے امور کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے پی آئی پی ایس جلد ایک تربیتی سیشن کا اہتمام بھی کرے گا۔ممبر کمپٹیشن کمیشن سلمان امین نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمپٹیشن قوانین پر عملدرآمد اور ان کے ذریعے معیشت کے تمام شعبوں میں مسابقت کا فروغ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے ذریعے کمپٹیشن کمیشن پالیسی سازوں کو کارٹلز، غلبہ کے غیر قانونی استعمال اور گمراہ کن مارکیٹنگ کے بارے میں اپنے جاری اقدامات کے بارے میں آگاہ کر سکے گا۔