وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت پاکستان کی ورلڈ اکنامک فورم سے شراکت داری کی حکمت عملی پر کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت پاکستان کی ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) سے شراکت داری کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے کمیٹی کا اجلاس وزارت خزانہ میں منگل کومنعقد ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک (آن لائن)، وزیر اعظم کے معاون خصوصی …

اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت پاکستان کی ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) سے شراکت داری کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے کمیٹی کا اجلاس وزارت خزانہ میں منگل کومنعقد ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک (آن لائن)، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل ، بورڈ آف انویسٹمنٹ ، نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن ، نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کے سینئر حکام اور وزیر اعظم کے چیف کوآرڈینیٹر مشرف زیدی نے شرکت کی۔وزیر نے اجلاس کے مقاصد اور وزیر اعظم کی جانب سے گزشتہ ہفتے تشکیل دی گئی کمیٹی کے مینڈیٹ پر روشنی ڈالی جس کا مقصد ورلڈ اکنامک فورم کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری کو مزید موثر بنا کر سرمایہ کاری، جدت اور جامع معاشی ترقی کے مواقع حاصل کرنا ہے۔

شرکا نے تجاویز پیش کیں اور حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا تاکہ ورلڈ اکنامک فورم میں پاکستان کا قائدانہ کردار مضبوط بنایا جا سکے، خاص طور پر ایسے براہ راست روابط قائم کرنے پر زور دیا گیا جو پاکستانی عوام خصوصاً خواتین، نوجوانوں اور کاروباری طبقے کے لیے ٹھوس فوائد فراہم کریں۔ بات چیت میں پاکستان میں جاری ڈبلیو ای ایف منصوبوں کی جامع فہرست تیار کرنے، ان کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور عملدرآمد میں موجود خلاء کو دور کرنے پر زور دیا گیا۔کمیٹی نے سرمایہ کاری اور معاشی ترقی، ڈیجیٹلائزیشن اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز بشمول مصنوعی ذہانت، مہارتوں کی ترقی و باعزت روزگار اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم شعبوں میں ڈبلیو ای ایف کے ساتھ تعاون کے مواقع پر بھی غور کیا۔ خصوصی توجہ "مستقبل کی ملازمتوں” کے عالمی مباحثے میں پاکستان کی شمولیت بڑھانے اور خواتین کی لیبر فورس میں شرکت میں اضافے پر مرکوز رہی۔ اس کے ساتھ پاکستان کی گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس میں درجہ بندی بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی بات ہوئی۔وفاقی وزیر نے شرکا کی قیمتی آراء کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کمیٹی کی مشاورت سے ورلڈ اکنامک فورم کے ساتھ پاکستان کے آئندہ روابط کے لیے ایک مربوط اور منظم حکمتِ عملی اپنانے میں مدد ملے گی، جو ملک کو عالمی اقتصادی ایجنڈا تشکیل دینے میں ایک سرگرم اور دوراندیش شراکت دار کے طور پر مستحکم کرے گی۔

مزید خبریں