اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ کسان کا تحفظ، بیج کے معیار میں بہتری اور پاکستان کی زراعت کو بین الاقوامی طریقوں سے ہم آہنگ کرنا حکومت کا مشن ہے، ہم جو بھی قدم اٹھائیں گے وہ بیج کے شعبے کو مضبوط بنانے اور ہماری زراعت کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ہو گا۔ ان خیالات …
کسان کا تحفظ، بیج کے معیار میں بہتری اور پاکستان کی زراعت کو بین الاقوامی طریقوں سے ہم آہنگ کرنا حکومت کا مشن ہے، رانا تنویر حسین

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ کسان کا تحفظ، بیج کے معیار میں بہتری اور پاکستان کی زراعت کو بین الاقوامی طریقوں سے ہم آہنگ کرنا حکومت کا مشن ہے، ہم جو بھی قدم اٹھائیں گے وہ بیج کے شعبے کو مضبوط بنانے اور ہماری زراعت کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے اپنی زیر صدارت نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے بورڈ آف گورنرز کے چوتھے اجلاس کیا ۔ اجلاس میں وزارت کے سینئر افسران، صوبائی زرعی محکموں کے نمائندے، تحقیقی اداروں اور نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی ۔ وفاقی وزیر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ معیاری بیج زرعی پیداوار اور منافع بخشی کی بنیاد ہے اور یہ اعلان کیا کہ کسانوں کے مفادات کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے، جس کے لیے بیج سے متعلق قوانین کا سختی سے نفاذ، شفاف ضابطہ کاری اور بدعنوانی کے لیے زیرو ٹالرنس اپنایا جائے گا۔ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے وفاقی وزیر نے فنانس اور پلاننگ کمیٹی کے قیام کی ہدایت دی جو مالیاتی گورننس کو مضبوط بنانے، وسائل کی حکمتِ عملی سے منصوبہ بندی کرنے اور آڈٹ کے لیے تیاری میں بہتری لانے کی ذمہ دار ہو گی۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ اقدام اتھارٹی میں شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنائے گا۔بیج کمپنیوں کی رجسٹریشن کے معاملے پر رانا تنویر حسین نے اعلان کیا کہ تمام نئی کمپنیاں ترمیم شدہ سیڈ ایکٹ کے تحت ہی لائسنس حاصل کریں گی، جس میں ڈھانچے کی تیاری، مالی ضمانتوں اور معیار کی تعمیل کو ثابت کرنے کے لیے سخت شرائط شامل ہوں گی۔ انہوں نے پرفارمنس بانڈ کو لازمی قرار دینے اور غیر فعال یا مسلسل غیر تعمیل کرنے والی کمپنیوں کو فوری طور پر ڈی لسٹ کرنے کی ہدایت دی — کسانوں کے مفاد کو تجارتی مفاد پر ترجیح دیتے ہوئے۔بیج کے شعبے میں اصلاحات کی منظوری دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کپاس کے لیے ٹروتھ اینڈ لیبلنگ سسٹم کو پائلٹ بنیادوں پر متعارف کرانے کی توثیق کی، جسے واضح اہلیت کے معیار اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ پروٹوکولز کے ساتھ نافذ کیا جائے گا تاکہ کسانوں کو ناقص بیج سے بچایا جا سکے۔کسانوں کے تحفظ کے معاملے پر، رانا تنویر حسین نے گریوینسز ریڈریسل کمیٹی (جی آر سی) کو ہدایت دی کہ بیج سے متعلق فصل کے نقصان کے دعووں کی جانچ جسمانی تصدیق، ٹیکس نمبر کی توثیق اور باضابطہ سماعت کے ذریعے جاری رکھی جائے وفاقی وزیر نے کہا کہ”ہمارا مشن واضح ہے کہ کسان کا تحفظ، بیج کے معیار میں بہتری، اور پاکستان کی زراعت کو بین الاقوامی بہترین طریقوں سے ہم آہنگ کرنا ہے ہم جو بھی قدم اٹھائیں گے، وہ بیج کے شعبے کو مضبوط بنانے اور ہماری زراعت کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ہو گا۔







