وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک کا جنیوا میں منعقدہ بین الوزارتی غیر رسمی مکالمہ برائے "سرکلر اکانومی میں سرمایہ کاری کے مواقع ، عالمی پلاسٹک معاہدے کے تناظر میں” سے خطاب

جنیوا۔12اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے جنیوا میں منعقدہ بین الوزارتی غیر رسمی مکالمہ برائے "سرکلر اکانومی میں سرمایہ کاری کے مواقع ، عالمی پلاسٹک معاہدے کے تناظر میں" سے خطاب کرتے ہوئے پلاسٹک آلودگی کے بڑھتے ہوئے عالمی بحران کے تدارک اور پاکستان کے ماحولیاتی، معاشی اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے جامع اور منصفانہ اصلاحات پر زور …

جنیوا۔12اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے جنیوا میں منعقدہ بین الوزارتی غیر رسمی مکالمہ برائے "سرکلر اکانومی میں سرمایہ کاری کے مواقع ، عالمی پلاسٹک معاہدے کے تناظر میں” سے خطاب کرتے ہوئے پلاسٹک آلودگی کے بڑھتے ہوئے عالمی بحران کے تدارک اور پاکستان کے ماحولیاتی، معاشی اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے جامع اور منصفانہ اصلاحات پر زور دیا۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی کی طرف سے منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے اپنے خطاب میں عالمی سطح پر پلاسٹک کے استعمال میں شدید عدم توازن کو اجاگر کیا۔ ترقی یافتہ ممالک نہ صرف پلاسٹک کی کھپت میں کئی گنا آگے ہیں بلکہ کم قیمت، آلودہ اور ناقابل ری سائیکل پلاسٹک کچرے کو ’’ری سائیکل ایبل‘‘ کے لبادے میں ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان برآمد کر دیتے ہیں۔ جدید ری سائیکلنگ سہولیات کی کمی کے باعث یہ فضلہ اکثر کھلے لینڈ فلز میں پھینکا جاتا ہے، جلایا جاتا ہے یا دریائوں اور سمندروں میں شامل ہو کر فضا، مٹی اور پانی کو آلودہ کرتا ہے جس کے اثرات براہ راست انسانی صحت پر پڑتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق مغربی یورپ میں فی کس سالانہ پلاسٹک کھپت 150 کلوگرام تک پہنچ چکی ہے جبکہ پاکستان میں یہ صرف 7 کلوگرام فی کس ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ شرح بالترتیب 8 اور 6 کلوگرام ہے اور نائیجیریا، ایتھوپیا اور کینیا میں یہ 5 سے 6 کلوگرام کے درمیان ہے۔ یہ ممالک عالمی پلاسٹک کھپت میں نہ ہونے کے برابر حصہ ڈالنے کے باوجود ماحولیاتی بوجھ کا سب سے زیادہ سامنا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ہمارے عوام ایک ایسے مسئلے کی قیمت ادا کر رہے ہیں جو ہم نے پیدا نہیں کیا، پلاسٹک بحران کو گلوبل سائوتھ کے لیے ایک اور ناانصافی بننے نہیں دیں گے۔ وفاقی وزیر نے عالمی پلاسٹک معاہدے کے تحت دو اہم اقدامات کی تجویز پیش کی، ایکسٹینڈڈ کنزیومر ریسپانسیبلٹی (ای سی آر) فریم ورک پلاسٹک آلودگی کی ذمہ داری کو صرف فضلے کے ضائع کرنے پر نہیں بلکہ کھپت کی مقدار سے منسلک کیا جائے۔ ایسے ممالک جہاں فی کس سالانہ کھپت 100 کلوگرام سے زائد ہو، انہیں پلاسٹک فنڈ میں مالی تعاون فراہم کرنا ہوگا تاکہ ترقی پذیر ممالک میں جدید ری سائیکلنگ پلانٹس، چھانٹنے کے مراکز اور تکنیکی سہولیات قائم کی جا سکیں۔

گلوبل پلاسٹک کریڈٹ مارکیٹ کے حوالے سے کاربن کریڈٹس کی طرز پر ایسے ترقی پذیر ممالک جو پلاسٹک کی ری سائیکلنگ، کچرے کے انتظام اور آلودگی کی روک تھام میں قابل ذکر پیش رفت کریں، انہیں پلاسٹک کریڈٹس سے نوازا جائے۔ ترقی یافتہ ممالک ان کریڈٹس کو حاصل کرکے اپنے ماحولیاتی اہداف پورے کر سکیں گے اور حاصل شدہ رقوم جدید ری سائیکلنگ نظام، فضلہ اکٹھا کرنے کے ڈھانچے اور غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں کی فلاح و بحالی پر خرچ ہوں گی۔ان اقدامات کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنے عوام کے صاف اور صحت مند ماحول کے حق کا دفاع کر رہا ہے بلکہ ایک زیادہ منصفانہ اور ذمہ دار عالمی معیشت کی تشکیل میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے، جہاں کوئی ملک پلاسٹک فضلے کا ڈمپنگ گرائونڈ نہ بنے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک آلودگی محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ انصاف، مساوات اور خودمختاری کا معاملہ ہے، پاکستان اس جدوجہد میں قیادت کے لیے تیار ہے تاکہ ہماری آئندہ نسلیں دریائوں، زمین اور فضائوں کو زہریلے فضلے سے پاک ورثے میں پائیں۔

مزید خبریں